Al-Risala · June 2001 · page 26

غلطی کہاں ہے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶

حصہ میں نہیں آیا۔

سب سے پہلے پوری مسلم دنیا میں مغربی استعمار کے خلاف تحریک اٹھائی گئی۔ مگر لمبی خونیں جدوجہد کے بعد جب مغربی استعمار کا خاتمہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ہر مسلم ملک میں مغرب پسند مسلمان لیڈروں نے حکمرانی کے مقام پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب ان مسلم حکمرانوں کے خلاف تحریکیں شروع ہوئیں کسی کو جلا وطن کیا گیا، کسی کو گولی ماری گئی۔ کسی کو پھانسی دی گئی۔ ابھی یہ عمل جاری تھا کہ معلوم ہوا کہ میڈیا اور ٹی وی کے ذریعہ مغربی تہذیب ہر مسلم گھر میں نئے راستوں سے داخل ہو گئی ہے۔ اب ملکی ٹی وی اسٹیشنوں کو توڑنے کی مہم شروع ہوئی۔ مگر فتح کے نعروں کے درمیان انکشاف ہوا کہ غیر مسلم ملکوں کی ٹی وی نشریات فضا کے ذریعہ ہر مسلم گھر میں داخل ہو رہی ہیں۔ مسلم عورتوں اور مسلم مرد انہیں انتہائی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اب چھتوں کے ڈش انٹینا توڑے جانے لگے تاکہ مسلمان غیر ملکی ٹی وی نہ دیکھ سکیں ۔ مگر عین اسی وقت معلوم ہوا کہ دنیا انٹر نیٹ کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔

اب حال یہ ہے کہ جن اخبارات کے دفتروں کو مسلم ملکوں میں جلایا جاتا ہے یا جن کتابوں کو مسلم دشمن بتا کر ان کے اوپر پابندی (ban) لگائی جاتی ہے وہ سب کے سب انٹر نیٹ کے ذریعہ پہلے سے بھی زیادہ پیمانہ پر ساری دنیا میں پہنچ رہی ہیں۔ اور انٹر نیٹ وہ بلا ہے جس کے پھیلاؤ کو روکنا کسی سپر پاور کے بس میں بھی نہیں۔

غلطی کہاں ہے

یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اہل ایمان کی کوششوں کو بار آور کرے گا پھر موجودہ زمانہ میں برعکس طور پر کیوں ایسا ہو رہا ہے کہ مسلم رہنما ؤں کی کوششیں ایک کے بعد ایک مکمل طور پر بے نتیجہ ہوتی جا رہی ہیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ان نام نہاد اسلامی قائدین کا نشانہ عمل ہی غلط تھا۔ وہ اپنی تمام کوششیں سسٹم کو بدلنے پر لگاتے رہے۔ جب کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فرد کو بدلنے پر ساری

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page