Al-Risala · June 2001 · page 31

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۱

تفسیر بالرائے

قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا ایک گناہ کا فعل ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے تو یہ تحریف ہے، (البقرہ (۷۵) اور قرآن میں اس قسم کی تحریف بلا شبہ ایک نا قابل معافی جرم ہے۔

یہ معاملہ اتنا زیادہ نازک ہے کہ محض اپنی رائے کے تحت کی ہوئی تفسیر اگر بالفرض درست ہو، تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ وہ آدمی کے لئے گناہ کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”من قال فی کتاب الله عز و جل برأيه فأصاب فقد أخطأ“، (سنن ابی داود، کتاب العلم (۳۱۹۳) یعنی جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی رائے سے کہا اور اس نے صحیح کہا تب بھی اس نے غلطی کی۔

ضروری تفسیری تقاضوں کو پورا کئے بغیر محض اپنی رائے سے قرآن کا مفہوم بیان کرنا ایک غیر محتاط روش ہے۔ اس لئے ایسے کسی آدمی کی تفسیر اگر اتفاقاً درست ہو تب بھی ایسا شخص اپنی غیر محتاط روش کی بنا پر غلط کار ٹھہرے گا۔ ایسے آدمی کو صحیح تفسیر کرنے کا انعام نہیں مل سکتا۔ تفسیر قرآن کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حدیث اور آثار میں جو تفسیریں منقول ہیں یا قدماء نے قرآنی آیات کی جو تفسیریں بیان کی ہیں، تفسیر قرآن کا کام بس اسی دائرے کے اندر ہونا چاہئے۔ گویا بعد کی مسلم نسلوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کے علماء اور مفسرین کے اقوال کو دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ حدیث کا یہ مطلب درست نہیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک با برکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں (ص ۲۹) قرآن جب ایک ایسی کتاب ہے جس پر ہر قاری تدبر اور غور و فکر کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف پچھلی بیان کردہ باتوں کو پڑھا جائے اور بس انہیں کو دہرایا جاتا رہے۔ تدبر کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page