Al-Risala · June 2001 · page 32

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲

لفظ اپنے آپ میں اس بات کا ثبت ہے کہ قرآن کے قاری سے یہ مطلب ہے کہ وہ گہرے غور و فکر سے اس میں نئے نئے معانی دریافت کرے اور ان سے اپنے ایمانی شعور میں اضافہ کرتا رہے۔ قرآن میں اگر یہ صفت نہ ہو تو وہ لوگوں کے لئے نصیحت اور اضافہ ایمان کی کتاب نہ بن سکے گا۔ گہری نصیحت نئے نئے معانی کی دریافت کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ کچھ معلوم اور محدود باتوں کی تکرار سے۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ حدیث سے صراحتہ بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں نئے معانی کی دریافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ نے فرمایا "ولا تنقضی عجائبہ" (الدارمی، فضائل القرآن، الترمذی، ثواب القرآن) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔ ایک اور روایت میں "لا تفنی" کا لفظ ہے۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی فنانہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب سے مراد معنوی عجائب ہیں۔ یعنی قرآن کے معانی اتنے زیادہ ہیں کہ ہر دور کے علماء اس سے نئے نئے معانی دریافت کرتے رہیں گے۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

تاریخ کے ہر دور میں قرآن کی آیتوں میں نئے نئے معانی کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کو استنباط کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اعداد و قوت کے حکم کے تحت جنگی گھوڑوں کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے (الانفال - ٦٠)۔ موجودہ زمانہ میں جنگی گھوڑوں کی جگہ جنگی مشینوں نے لے لی ہے۔ چنانچہ تمام علماء اب اس آیت کی تفسیر کے تحت کہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر اس آیت میں جنگی گھوڑوں کے بجائے جنگی مشینوں کی فراہمی مراد لی جائے گی۔ کیونکہ اب جنگی گھوڑوں کے ذریعہ ارہاب کا فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا جس کو مذکورہ آیت میں اعداد و قوت کا مقصود بتایا گیا ہے۔ اب ارہاب کا یہ فائدہ مشینی طاقت کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔ قرآن ہر دور میں مسلمانوں کے لئے ذہنی اور علمی ارتقاء کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ ذہن انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اس کو بار بار غور و فکر کے اوپر ابھارتا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page