۴۱ مارچ، ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۵۰
۱۳ مسٹر کاظمی نے ایران ریڈیو کے لئے ۸ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو توڑنے سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کے توڑنے کو بابری کا مسجد کارد عمل بتانا سخت ناعاقبت اندیشانہ فعل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بالواسطہ انداز میں اس کو درست قرار دے رہے ہیں کہ ہر ملک دوسری قوم کی تاریخی یادگار کو توڑے ۔ ۱۴ ہندی روزنامہ راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اپادھیائے نے ۸ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بدھا کے مجسموں کو توڑنے سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم پہلے فلاں کام کی مذمت کرو، اس کے بعد ہم افغانستان میں بتوں کو توڑنے کی مذمت کریں گے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کسی شرط کے بغیر برائی کی مذمت کی جائے۔ ۱۵ بی بی سی لندن (اردو سروس) کی نمائندہ ایلیا حیدر نے ۹ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر افغانستان میں بت شکنی یا مجسمہ شکنی سے تھا۔ جو طالبان کے لیڈر ملا عمر کے حکم سے ہو رہا ہے۔ بتایا گیا کہ طالبان حکومت کا یہ فعل اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مختلف ممالک فتح ہوئے مگر ان ملکوں میں بت شکنی کی مہم نہیں چلائی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ خلیفہ عمر کا طریقہ مسلمانوں کے لئے نمونہ ہے یا ملا عمر کا طریقہ۔ ۱۶ روہیل کھنڈ یونیورسٹی (بریلی) میں سالانہ لکچر کا نظام ہے۔ اس کے تحت صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی۔ ۱۴ مارچ ۲۰۰۱ کو یونیورسٹی میں ان کا لکچر ہوا جس کا عنوان اسلام اینڈ پیس تھا۔ یہ سالانہ لکچر ڈپارٹمنٹ آف اینشنٹ ہسٹری اینڈ کلچر کے تحت منعقد کیا تھا۔ تقریر کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ یونیورسٹی کے لوگوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔ اسلام کے بارے میں ان کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues