۴۱ مارچ، ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۹
مجسمہ کو توڑنے کی جو مہم افغانستان میں جاری کی گئی ہے وہ سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام کا نشانہ پتھر کے بتوں کو توڑنا نہیں ہے بلکہ انسان کے قلب و ذہن کی اصلاح کرنا ہے اور انہیں ایک اللہ کا پرستار بنانا ہے۔ یہ مقصد ترغیب (persuasion) کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے نہ کہ توڑ پھوڑ کے ذریعہ۔
10 6مارچ ۲۰۰۱ کو انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے زیر اہتمام انٹر نیٹ پر سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس کا پہلے سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ ۶ مارچ کی شام کو صدر اسلامی مرکز سوال کا جواب دینے کے لئے ٹائمس آف انڈیا کے دفتر میں موجود رہیں گے۔ فوراً سوال اور اسی وقت جواب کا پروگرام دو کمپیوٹروں کے ذریعہ منظم کیا گیا۔ اخبار والوں نے بتایا کہ یہ ایک ریکارڈ ہے کہ صرف ایک شخص سے سوال کرنے کے لئے ایک وقت میں آٹھ سو سوالات آئے۔ ان سوالات کا فوری جواب انٹر نیٹ پر دیا گیا۔ فوری طور پر کچھ تاثرات بھی آئے۔
ہندی روزنامہ دینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۶ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ طالبان نے افغانستان میں گوتم بدھ کے جو مجسمے توڑے ان کا اسلامی حکم کیا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں پر امن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ توڑ پھوڑ۔ اسٹار پلس ٹی وی کے نمائندہ مسٹر ترویدی نے ۷ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ طالبان کا مورتیوں کو توڑنا کیا بابری مسجد کے توڑنے کا ری ایکشن ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ طالبان کے معاملہ کو بابری مسجد سے جوڑنا درست نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ بابری مسجد کے توڑنے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اگر طالبان کو اپنے ملک میں غیر مسلم یادگاروں کو مٹانے کا حق ہے تو انڈیا کے کٹر لوگ یہ کہیں گے کہ پھر ہمیں بھی اسی طرح اپنے ملک میں مسلم یادگاروں کو مٹانے کا حق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues