موجودہ مسلم معاشرہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۵
ذہن یہ بن گیا کہ علم و تحقیق کا سارا کام علمائے سلف کر چکے ہیں۔ اب ہمارے لئے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان کی کتابوں کو پڑھیں اور ان کا اتباع کریں۔ مگر اس قسم کی سوچ فکری ترقی کے لئے ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لئے طرزِ فکر کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ دونوں صورتیں حسب ذیل ہیں :
۱۔ میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے مگر میں اسلاف کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔ ۲۔ میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے اس لئے میں اسلاف کے قدموں میں پڑا ہوا ہوں۔ مذکورہ تقسیم میں پہلا طرزِ فکر مجتہدانہ ہے۔ وہ مسلم گروہ کے علمی اور ذہنی سفر کو مسلسل ترقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ جس گروہ کے اندر یہ فکری روایت ہو اس کی ہر اگلی نسل اپنی پچھلی نسل کا مکمل احترام کرتے ہوئے اس کی ترقی کو زینہ کے طور پر استعمال کرے گی۔ اس طرح ہر اگلی نسل اپنی پچھلی نسل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتی رہے گی۔
اس کے مقابلہ میں دوسرا طرزِ فکر مقلدانہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی سفر کو ایک حد پر روک دینے والا ہے۔ اس طرزِ فکر کا بیک وقت دو نقصان ہو گا۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ اسلام کے اعلیٰ فکری درجات پر پہنچنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ اضافہ پذیر معرفت سے آشنا نہ ہو سکیں گے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہو گا کہ وہ علمی و فکری میدان میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں گے۔ انسانیت کے رواں دواں قافلہ میں وہ گرد راہ بن کر رہ جائیں گے۔
یہ تقلیدی طرزِ فکر عین وہی ہے جس کو جاہلی دور کے مشہور شاعر عنترہ بن شداد العبسی (وفات ۶۱۵ء) نے اپنے معلقہ کے مطلع میں ان الفاظ میں بیان کیا تھا : هل غادر الشعراءاء من متردم اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے شعر نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے۔ یعنی وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں، اب کسی شاعر کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ اضافہ کر سکے۔ ادب کی دنیا کا یہ طرزِ فکر جب مذہب میں داخل ہو جائے تو اسی کو تقلیدی فکر کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues