Al-Risala · July 2001 · page 6

موجودہ مسلم معاشرہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۶

اس قسم کا تقلیدی فکر ذہنی ترقی کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دینے والا ہے۔ اور بلاشبہ ذہنی جمود سے زیادہ مہلک کوئی اور چیز کسی فرد یا گروہ کے لئے نہیں۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہاں میں ذخیرہ حدیث سے چند مثالیں دوں گا۔ احترامِ انسانیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ مختلف راویوں کے ذریعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ صحیح الالبخاری میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر اس کے احترام میں آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا (وہ مسلمان کا جنازہ نہ تھا۔ آپ نے فرمایا: الیست نفساً (فتح الباری ۲۱۴/۳) یعنی کیا وہ انسان نہیں۔

امام بخاری کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں حدیثیں جمع کیں۔ پھر غیر معمولی محنت کے ذریعہ (مکررات سمیت) ان میں سے ۵۶۳۷ حدیثیں منتخب کیں اور وہ قیمتی مجموعۂ احادیث تیار کیا جو صحیح البخاری کے نام سے ہمارے پاس موجود ہے اور جس کو 'اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے امام البخاری کا کارنامہ اتنا عظیم ہے کہ شاید اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔

لیکن بعد کی نسلوں کو یہیں رک جانا نہیں ہے، بلکہ اور آگے بڑھنا ہے۔ مثلاً امام البخاری نے مذکورہ حدیث کو اپنے مجموعہ میں کتاب الجنائز (باب من قام لجنازہ یہودی) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ اپنی سوچ کو امام البخاری کے قائم کردہ ترجمہ باب تک محدود کر لیں تو وہ اس حدیث کو صرف جنازہ کا ایک معاملہ سمجھیں گے اور اس سے جنازہ کے مسائل نکالنے پر اکتفا کریں گے۔ ان کا ذہنی سفر، اس حدیث کے تعلق سے مسئلہ جنازہ سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔ اس کے بعد دوسرا گروہ شارحین کا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، احادیث کی شرح میں کثرت

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page