Al-Risala · July 2001 · page 19

فقہ کی تدوین دور اقتدار میں

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹

موجودگی میں کوئی مثبت کام کرنا بھی ان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک عظیم تاریخی امکان استعمال ہوئے بغیر ختم ہو گیا۔ اور اس کا سبب صرف اجتہادی بصیرت کا فقدان تھا۔ یہاں ہم اجتہادی تاخر کی چند مثالیں دیں گے جن سے اندازہ ہوگا کہ مقلدانہ فکر کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں مسلمان کس قسم کے نقصانات سے دوچار ہوئے۔ اجتہادی عمل کو موقوف کرنے کے نتیجہ میں کس طرح وہ دورِ جدید میں ایک کھڑا ہوا قافلہ بن کر رہ گئے۔

فقہ کی تدوین دور اقتدار میں

اس حادثہ کی جڑ یہ ہے کہ ہماری موجودہ فقہ خلافت عباسیہ کے زمانہ میں مدون ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ اہل اسلام کو عالمی دبدبہ حاصل تھا، ان کو دنیا میں سب سے بڑی سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے اپنے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: ہمیں چھائے ہوئے شرق سے تاغرب دنیا میں نہ تھا پلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے موجودہ فقہ اسی حاکمانہ دور میں مدون ہوئی، اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے دور کا مزاج ان کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ مدون فقہ ایک قسم کی حاکمانہ فقہ بن گئی۔ نمونہ موجود نہیں میں نے ایک مشہور عالم اور مفکر کی تقریر سنی، یہ تقریر ہندوستان کے ایک شہر میں ہوئی تھی۔ ان کی تقریر کا موضوع ”جدید دور میں اسلام“ تھا۔ تقریر کے آخر میں حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہمارے لئے شریعت میں کیا رہنمائی ہے۔ مذکورہ مسلم رہنما یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے، اس کے بعد کہا کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ اسلامی شریعت میں طاقتور حالت (position of strength) کا ماڈل تو موجود ہے، مگر اسلام میں متواضع حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ میں عرصہ تک یہ سوچتا رہا کہ مذکورہ مسلم رہنما کو اسلامی شریعت میں متواضع حالت کا ماڈل کیوں نہیں ملا۔ آخر کار یہ سمجھ میں آیا کہ مذکورہ مسلم رہنما (دورِ جدید کے دوسرے مسلم

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page