Al-Risala · July 2001 · page 18

فکری المیہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸

اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلہ میں اس قدر کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہئے۔ انگریزی حکومت نے، جو عقل و عدل کی حکومت ہے، غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم کر رکھا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ موازنہ کسی وقت ٹوٹ جائے تو آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا؟ غالباً مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس میں ہوا تھا۔ اس لئے ایک جماعت ہم میں ایسی ہونی چاہئے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عائد کئے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانہ کے علوم و فنون کی بنا پر پیدا ہوگئے ہیں، ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس داعی جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں۔ “ (الجمعية ویکلی، دہلی، ۶ فروری، ۱۹۷۰ء، صفحہ ۱۰)

سید محمد رشید رضا کی یہ تقریر مجتہدانہ بصیرت کی ایک مثال ہے۔ حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے انہوں نے پیشگی طور پر یہ جان لیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلم اقلیت اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان بظاہر جو موازنہ (balance) قائم ہے وہ ایک تیسری طاقت (انگریز) کی موجودگی کی بنا پر ہے۔ اس تیسری طاقت کے ہٹتے ہی اس کا قائم کردہ موازنہ اچانک ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی وہ اس سے بالکل مختلف ہوگی جو ۱۹۱۲ء میں بظاہر دکھائی دے رہی تھی۔ گویا سیاسی آزادی کا آنا مسلمانوں کے لئے ایک نئے مسئلہ کا آنا ہو گانہ کہ مسئلہ کا ختم ہونا۔

اس دور رس اندازہ کی بنا پر سید رشید رضا نے ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے میدان دعوت میں سرگرم ہوں۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے علمی تیاری کریں تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام کر سکیں۔ مگر اس وقت کے مسلم رہنما انگریز سے نفرت میں اتنا زیادہ گم تھے کہ وہ یہ سوچ ہی نہ سکے کہ انگریز کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page