شتم رسول کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱
شتم رسول کا مسئلہ
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے: کام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر شتم کرے، خواہ وہ اشارہ ہی کیوں نہ ہو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یقتل حداً) اس معاملہ میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہہ کا استثناء پایا جاسکتا ہے۔ اس حکم کی تفصیل کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجئے: 1۔ الصارم الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ابن تیمیہ ۲۔ السیف المسلول علی من سب الرسول، تقی الدین ابو الحسن علی السبکی ۳۔ تنبیہ الولاة والحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام أو أحد اصحابه الکرام، ابن عابدین الشامی اس مسئلہ پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وہ ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہاء کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتم رسول کو لازماً بطور حد قتل کیا جائے تو یہ مسئلہ دورِ اول کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُس زمانہ میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتم رسول کا فعل کر رہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔
اس سلسلہ میں ایک انتہائی واضح مثال مدینہ کے عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ہے۔ وہ ایک کھلا ہوا شاتم رسول تھا ۔ وہ رات دن شتم رسول کے تمام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کا شاتم ہونا غیر مشتبہ طور پر ثابت تھا۔ پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود، رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔
اس عدمِ قتل کا سبب کیا تھا؟ علامہ ابن تیمیہ (وفات ۷۲۸ھ) نے اس واقعہ کا ذکر کرتے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues