Al-Risala · July 2001 · page 22

شتم رسول کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲

ہوئے لکھا ہے کہ وانما ترک النبی صلی علیہ وسلم قتله لما خیف فی قتله من نفور الناس عن الاسلام لما کان ضعیفاً (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ۱۷۹) یعنی رسول اللہ ﷺ صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے ، کیوں کہ (اس وقت) اسلام ضعیف تھا۔ دور اول کے زمانہ میں اور عباسی خلافت کے زمانہ میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں۔ جیسا کہ معلوم ہے، فروری ۱۹۸۹ء میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیٹینٹک ورینز (Satanic Verses) کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتویٰ جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثناء کو چھوڑ کر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے اس فتویٰ کی تائید کی۔ اس کی حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتویٰ اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجہ میں اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ اور اس کی تصویر یہ بن گئی کہ اسلام خدا نخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔

موجودہ زمانہ میں آزادی رائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے۔ یہ گویا ان کا مذہب ہے۔ اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتویٰ کو اپنے مذہب (آزادی) پر براہ راست حملہ سمجھا۔ یہ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رُشدی کے دفاع پر آگئے۔ اسی کے ساتھ جدید میڈیا نے اس معاملہ کو اتنا پھیلایا کہ اس کی خبر ساری دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس اندیشہ کی بنا پر مدینہ کے عبداللہ بن ابی کے قتل سے پر ہیز کیا، وہ اندیشہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ کے نتیجہ میں ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانہ پر اہل اسلام کے لیے پیش آگیا۔ اب ان دو متقابل نظیروں پر غور کیجئے ۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی نظیر بتاتی ہے کہ شتم رسول کے معاملہ میں، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ بڑے پیمانہ پر ہو، یہ دیکھا جائے گا کہ شاتم کو اگر قتل کیا جائے تو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page