جدید امکانات کا استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
جدید امکانات کا استعمال
موجودہ زمانہ کے مسلمان عجیب و غریب طور پر ایک استثنائی محرومی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اس محرومی میں شاید کوئی بھی دوسری قوم یا دوسرا گروہ ان کا شریک نہیں۔ وہ ہے دورِ جدید کے عظیم امکانات کو استعمال کرے میں ناکام رہنا۔
موجودہ زمانہ میں جن امکانات (opportunities) کا دروازہ انسان کے لئے کھلا، ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان وہ تھا جس کو آزادی (freedom) کہا جاتا ہے۔ فرانس کے انقلابی مفکر روسونے اپنی کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملہ سے کیا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ یہ قول دورِ جدید کا کلمہ بن گیا۔ یہ تصور اتنا بڑھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ہر انسان کا یہ ناقابلِ تنسیخ حق ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے اس کو اختیار کرنے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ اس مطلق آزادی کو مقید کرنے والی صرف ایک چیز تھی، وہ یہ کہ آدمی اپنی آزادی کے استعمال میں جارح نہ بنے، وہ تشدد کے بجائے پرامن ذرائع سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اس کی وضاحت کے لئے دو متعلق قصے کا ذکر مفید ہو گا جو اس معاملہ کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔
۳۰۰ سال پہلے جب امریکہ انگریزوں کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہوا تو ایک امریکی شہری خوشی منانے کے لئے ایک سڑک پر نکلا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلاتا ہوا جا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ایک ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے غصہ ہو کر کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے (What is this nonsense)۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ اب امریکہ آزاد ہے، اب میں جو چاہوں کروں۔ راہ گیر نے نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ بیشک تم آزاد ہو مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ Your freedom ends where my nose begins.
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues