موجودہ فقہ کافی نہیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸
حاصل کر سکیں۔ مگر مسلمان اجتہادی طرز فکر سے محرومی کی بنا پر ایسا نہ کر سکے۔ ان کے مقلدانہ ذہن نے یہ تو سوچا کہ وہ امریکہ جیسے ملک میں خلافت قائم کرنے کی تحریک چلائیں اور کیلی فورنیا کو خیلی فورنیا میں تبدیل کرنے کا مضحکہ خیز خواب دیکھیں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ وہ شرکت اقتدار کے جدید اصول کو استعمال کر کے امریکہ میں اپنی سیاسی جگہ حاصل کریں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم فکر کی اس پس ماندگی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے مجتہدانہ طرز فکر، بالفاظ دیگر مدون فقہ سے باہر آکر، براہ راست قرآن وحدیث سے رہنمائی لینے کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا۔ اگر یہ فکری حادثہ نہ پیش آتا اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ قرآن میں تدبر کرتے تو انہیں معلوم ہو تاکہ قرآن اس معاملہ میں انہیں واضح رہنمائی دے رہا ہے۔
یہ رہنمائی قرآن کی سورۃ نمبر ۱۲ میں موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے پیغمبر یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ بادشاہ اگرچہ مشرک تھا اور مشرک ہی مرا، مگر اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر وہ اس کے لئے راضی ہو گیا کہ حضرت یوسف کو اپنے سیاسی نظام میں ایک با اختیار شریک کی حیثیت سے شامل کرے ۔ حضرت یوسف اپنے ہم عصر بادشاہ کی اس پیش کش پر راضی ہو گئے اور اس کے سیاسی نظام میں ایک حکومتی عہدہ قبول کر لیا۔ یہ عہدہ بظاہر بادشاہ کے تحت وزیر غذاوزراعت کاعہدہ تھا مگر عملاً وہ نائب سلطنت کا عہدہ تھا۔ کیوں کہ قدیم زراعتی دور میں کسی ملک کی تمام اقتصادی اور غیر اقتصادی سرگرمیاں زراعت (ایگریکلچر) پر مبنی ہوتی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت یوسف کو جوعہدہ ملاوہ گویا ملک کے سب سے زیادہ کلیدی عہدہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
دور جدید کے مسلمان اگر فقہی تقلید سے گزر کر براہ راست قرآن پر مجتہدانہ غور و فکر کرتے تو وہ جان لیتے کہ قرآن میں حضرت یوسف کا مذکورہ واقعہ ان کے لئے ایک عظیم پیغمبرانہ نظیر ہے۔ وہ انہیں یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ جمہوریت کے نئے دور میں شرکت اقتدار کے اصول کو اپنے حق میں استعمال کریں اور یہ یقین رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا پیغمبر کے اسوہ کے عین مطابق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues