Al-Risala · July 2001 · page 31

جدید امکانات کا استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۱

قدیم فقہ پر مبنی یہ ذہنی ڈھانچہ (mental framework) اتنا زیادہ عام ہوا کہ نام نہاد جدید مفکرین بھی اس کے خول سے باہر نہ آسکے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانہ میں ہمارے رہنماؤں کی تمام قربانیاں رائیگاں ہو کر رہ گئیں ۔

موجودہ زمانہ میں مسلح طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار کس طرح زیادہ نتیجہ خیز ہے اس کا اندازہ مہاتما گاندھی کی ایک مثال سے ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں 1919 میں شریک ہوئے۔ اس وقت تک ہندوستان کی تحریکِ آزادی تشدد کے اصول پر چلائی جا رہی تھی۔ برٹش حکومت اس تشدد کو جوابی تشدد سے کچل دیتی تھی۔ مہاتما گاندھی نے اچانک یہ اعلان کیا کہ ہم تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔ طریقہ کار کی اس تبدیلی نے برٹش حکومت کو بے بس کر دیا۔ کیوں کہ غیر متشددانہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے اس کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب مہاتما گاندھی نے تحریکِ آزادی کے لیڈر کی حیثیت سے نیا اعلان کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ ٹیلی گرام بھیجا کہ۔ براہ کرم یہ بتائیں کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے : Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. خلاف زمانہ روش موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر ایک قسم کی خلاف زمانہ روش (anachronistic attitude) میں مبتلا ہو گئے۔ جن قدیم شخصیتوں کے وہ ذہنی مقلد بنے ہوئے تھے ان کے یہاں پر امن طریقہ کار یا پر امن جدوجہد کا تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ تصور قرآن وسنت میں واضح طور پر موجود تھا مگر براہِ راست قرآن وسنت سے حکم اخذ کرنے کے لئے اجتہاد درکار تھا اور انہوں نے پہلے ہی اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کر دیا تھا کہ ایک صاحب کے بقول اب اس کی کنجی بھی گم ہو گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page