جدید امکانات کا استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲
قرآن میں فطرت کا ایک ابدی قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: ’’الصلح خیر‘‘ (النساء ۱۲۸)۔ یعنی ٹکراؤ کے طریقہ کے مقابلہ میں مصالحانہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ یہ واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں عدم تشدد کی اہمیت کی تعلیم ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متشددانہ طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار زیادہ نتیجہ خیز ہے۔
پر امن طریقہ کار (peaceful method) کے حق میں قرآن و سنت میں اس قسم کی واضح تعلیمات موجود تھیں۔ مگر دور جدید کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر ان کو دریافت نہ کر سکے، وہ تشدد کی چٹان سے بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکراتے رہے اور بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ وہ قربانی اور شہادت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔
اس مقلدانہ ذہن نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے اور فائدہ کچھ بھی نہیں دیا۔ مثال کے طور پر فلسطین کے عربوں کو اگر یہ راز معلوم ہوتا تو وہ 1948 کے بعد اپنی تباہ کن مسلح جد و جہد نہ چھیڑتے بلکہ وہ پر امن طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جدید امکانات سے فائدہ اٹھاتے۔ اس کے بعد فلسطین میں ان کو مزید اضافہ کے ساتھ وہی پر عظمت حیثیت حاصل ہو جاتی جو اسی اصول کو استعمال کر کے یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان اگر اس قیمتی راز سے واقف ہوتے تو وہ کشمیر میں گن کلچر اور بم کلچر نہ چلاتے بلکہ اس کے بجائے وہ پیس کلچر چلاتے۔ وہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید امکانات کو استعمال کرتے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں ایسی با عظمت حیثیت حاصل کر لیتے جو نام نہاد آزاد کشمیر کے مقابلہ میں ان کے حق میں ۱۰۰ گنا زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما جو مختلف مسلم ملکوں میں ’’لڑ کر اقتدار کی کنجی‘‘ چھیننے میں مشغول ہیں، اور اپنے ملکوں کو صرف تباہی میں اضافہ کا تحفہ دے رہے ہیں، وہ اگر پر امن
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues