Al-Risala · July 2001 · page 40

تنقید نہ سننے کا نقصان

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰

مگر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا چنانچہ انہوں نے سید صاحب کا ساتھ چھوڑ دیا اور ہندوستان واپس آگئے (وبايع السيد المجاهد احمد بن عرفان البريلوي بيعة الجهاد و سافر إلى یاغستان مع أصحابه لينصره فى الجهاد، ولكن الشيطان و سوس في صدره فتأخر ورجع الى الهند) نزهة الخواطر و بهجة المسامع والنواظر، الجزء السابع، صفحه ۴۰۶ - ۴۰۷۔

سید احمد شہید بریلوی نے اپنے اقدام کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ تحقیق بھی نہیں کی کہ پنجاب میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی خبریں جو انہوں نے سنی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی طاقت کتنی زیادہ ہے اور ان کے اپنے مریدوں کی غیر تربیت یافتہ فوج کس حد تک اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وہ محض خوش عقیدگی کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ریاست میں داخل ہو گئے، جب کہ یہاں کے جغرافیہ کا بھی انہیں پوری طرح علم نہ تھا۔ فطری طور پر اس کا انجام یہ ہوا کہ سید صاحب اور ان کے بیشتر ساتھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان کی یہ مہم مسلمانوں کی یک طرفہ تباہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔

اس دوسری مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملَات میں درست رائے تک پہنچنے کے لیے یہ کتنا ضروری ہے کہ اختلاف رائے کا کھلا ماحول ہو، لوگوں کی تنقیدیں خوش دلی کے ساتھ سنی جائیں اور علمی بحث و مذاکرہ کے بعد درست فیصلہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ شخصیت نہیں بلکہ اصول ایک عالم نے ایک علمی مسئلہ میں اپنے شیخ طریقت پر تنقید کی۔ کسی نے کہا کہ آپ اپنے شیخ پر تنقید کر رہے ہیں۔ عالم نے جواب دیا: نحن نحب شيخنا ولكن الحق أحب إلينا من الشيخ (ہم اپنے شیخ سے محبت کرتے ہیں مگر حق ہم کو شیخ سے بھی زیادہ محبوب ہے)۔ مذکورہ عالم کا یہ قول ایک اہم حقیقت کو بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی مسئلہ میں کوئی تنقیدی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page