تنقید نہ سننے کا نقصان
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹
مشہور عالم تھے۔ وہ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں شریک ہو کر روانہ ہوئے۔ چار سدہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ یہاں پہنچ کر مولانا میر محبوب علی صاحب کو سید صاحب سے اختلاف ہو گیا۔ مولانا میر محبوب علی صاحب نے اپنی اس اختلاف کی روداداپنی عربی کتاب ”تاریخ الأئمة فی خلفاء الامۃ‘‘ میں درج کی ہے۔ یہ کتاب دہلی میں جامعہ ہمدرد ( تغلق آباد) کے کتب خانہ میں موجود ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میر محبوب علی صاحب نے چار سدہ کے مقام پر سید احمد شہید بریلوی سے خلوت میں ملاقات کی۔ انہوں نے سید صاحب سے پوچھا کہ آپ نے سکھوں کے خلاف جہاد کا یہ اقدام کس بنیاد پر کیا ہے۔ سید صاحب نے بتایا کہ کشف اور خواب کی بنیاد پر۔ میر محبوب علی صاحب نے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں ہے کہ ”وامرهم شوری بینهم“ (الشوریٰ ۳۸)۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ جہاد کا فیصلہ مشورہ کے ذریعہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو بھی مشورہ کرنا چاہئے اور اقدام سے پہلے اس معاملہ کی پوری تحقیق کرنا چاہئے۔
مگر سید احمد شہید بریلوی نے میر محبوب علی صاحب کی اس بات کو نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ تم اپنی اس تنقید سے میرے کام میں خلل ڈال رہے ہو، تمہاری اطاعت خاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہئے، ایسی خاموشی جیسی اس سامنے والے پہاڑ کی ہے۔ سید صاحب سے میر محبوب علی صاحب کی یہ گفتگو نا کام رہی چنانچہ وہ واپس ہو کر دہلی آگئے۔ سید صاحب نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: من ذهب من عندی الى وطنه مراجعا فقد ذهب ايمانه اس واقعہ کو بعض کتابوں میں میر محبوب علی صاحب کی ”گمراہی“ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مولانا سید عبدالحی صاحب (سابق ناظم ندوة العلماء لکھنؤ) نے لکھا ہے کہ مولانا میر محبوب علی صاحب اپنے وقت کے مشہور علماء میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی اور سید صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ یاغستان کا سفر کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues