تنقید کا فائدہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴
اس سے پہلے میرے ذہن میں واضح نہ تھا۔ اس طرح مذکورہ اسکالر کی تنقید میرے لیے سیرت کے ایک نئے اور بے حد اہم گوشہ کی دریافت کا سبب بن گئی۔ جب میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا کی تمام سائنسی اور تہذیبی ترقیاں پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد ظہور میں آئی ہیں، آپ سے پہلے ان چیزوں کا کوئی وجود ہی نہ تھا تو یہ سوچ میرے لیے ایک نئی دریافت تک پہنچنے کا ذریعہ بن گئی۔ میں نے یہ دریافت کیا کہ دونوں واقعات میں ایک گہرا رشتہ ہے۔ اس دریافت کے بعد میں نے اس موضوع پر باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعہ کا نتیجہ راقم الحروف کی وہ کتاب تھی جو اسلام دور جدید کا خالق (Islam the Creator of the Modern Age) کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو، وہ اپنے ذہنی اعتدال کو برقرار رکھے تو تنقید اس کے لئے کتنی زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ صحیح معیار اور غلط معیار مقلدانہ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ ان میں شاید سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگ حق کو خود حق سے نہیں پہچانتے بلکہ وہ اس کو ر جال کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا سب سے بڑا مرجع ان کے مفروضہ بزرگ بن جاتے ہیں۔ یہ مفروضہ بزرگ جس چیز کو حق بتائیں اس کو وہ حق مان لیتے ہیں۔ کوئی شخص جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست میں شامل نہ ہو وہ خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ کسی بات کو پیش کرے، وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے، کیوں کہ ان کے اندر یہ ذاتی صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ دلیل کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانیں اور اس کو اختیار کر لیں۔
یہی واحد سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں پیغمبروں کا انکار کیا گیا۔ پیغمبر اپنے معاصرین کو ایک نیا شخص دکھائی دیتا تھا جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست سے باہر تھا، اس لئے وہ پیغمبر کو اس کی زندگی میں قابل لحاظ شخص کا درجہ نہ دے سکے۔ مزید یہ کہ پیغمبر جب ان کی محبوب شخصیتوں پر تنقید کرتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ بھڑک جاتے اور اس کے پیغام پر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues