تنقید کا فائدہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵
سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔
مقلدانہ ذہن اور مجتہدانہ ذہن کے درمیان سب سے زیادہ اہم فرق یہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ حق کو صرف اپنی شخصیتوں کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ اس کے برعکس مجتہدانہ ذہن رکھنے والے لوگوں میں یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ حق کو خالص دلیل کے زور پر پہچانیں اور اس کو پوری آمادگی کے ساتھ اختیار کر سکیں۔
اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ عین اسی چیز سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو دین میں سب سے زیادہ اہم حیثیت حاصل ہے، یعنی معرفت والا ایمان۔ معرفت والے ایمان کا سرچشمہ ذاتی دریافت (self-discovery) ہے۔ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ خود اپنے ذہن کو آزادانہ طور پر استعمال ہی نہیں کرتے، اس لئے وہ معرفت والے اسلام سے آشنا نہیں ہوتے۔
مجتہدانہ ذہن رکھنے والوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایسے لوگوں کے ذہن کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ آزادانہ طور پر غور و فکر کے لئے تیار رہتے ہیں۔ وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر کسی چیز کا حق ہونا ظاہر ہو تو وہ فوراً اس کو پہچان لیں اور کسی تردد کے بغیر اس کو مان لیں۔
موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لئے سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ وہ حق کو دریافت کرے۔ یہ احساس کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے، بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ مگر یہ عظیم ترین نعمت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو مجتہدانہ فکر کے حامل ہوں۔ جو لوگ مقلدانہ فکر کے اندھیروں میں گم ہوں وہ کبھی معرفت والی سچائی کا تجربہ نہیں کر سکتے۔ انقلابی ذہن کی ضرورت شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات ۱۷۶۲ء) نے اپنی کتاب عقد الجید میں اجتہاد اور مجتہد کے مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجتہد وہ ہے، جس کے اندر پانچ قسم کے علوم موجود ہوںـــــ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues