تنقید کا فائدہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۸
سے ملنے لگیں گے اور دونوں فریقوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال (open dialogue) شروع ہو جائے گا۔ اس عمل کے دوران اسلام کی خوبیاں اپنے آپ لوگوں کے اوپر ظاہر ہونے لگیں گی اور وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں یدخلون فی دین اللہ افواجاً (النصر) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
چنانچہ یہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے وقت اہل اسلام کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی مگر اس کے بعد امن کے حالات میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی اس کے نتیجہ میں دو سال سے بھی کم مدت میں اہل اسلام کی تعداد10 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا۔
یہی واقعہ تیرہویں صدی میں ایک اور صورت میں پیش آیا۔ جنگجو تاتاری ہتھیار کی طاقت سے مسلم دنیا میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے سمرقند سے حلب تک مسلم بستیوں کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں میں یہ مقولہ مشہور ہو گیا کہ : اذا قیل لك ان التتر انهزموا فلا تصدق (اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو تم اس کو نہ ماننا) یہ ظاہری صورت حال تھی۔ مگر اس کی تہہ میں ایک اور چیز چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ تاتاری نیزہ اور تلوار کی طاقت ضرور رکھتے تھے مگر وہ نظریۂ حیات (ideology) سے خالی تھے۔ مسلمانوں سے اختلاط کے دوران وہ اسلام کے نظریہ سے متعارف ہوئے۔ چونکہ ان کے پاس اس سے مقابلہ کے لئے کوئی جوابی نظریہ موجود نہ تھا، وہ تیزی سے اسلامی نظریہ سے متاثر ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو ایک مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو گئے تھے :
The religion of Muslims have conquered where their arms had failed. اب بعد کے زمانہ کو دیکھئے۔ اس سلسلہ میں پہلی سبق آموز مثال شاہ ولی اللہ دہلوی کی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues