Al-Risala · July 2001 · page 47

تنقید کا فائدہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷

ہے۔ یہ مزید شرط حدیث کے الفاظ میں یہ ہے : وعلی العاقل ان يكون بصيراً بزمانه (جامع العلوم والحکم، ابن رجب الحنبلی، صفحہ ۹۸) یعنی دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو۔

حدیث میں جس مزید شرط کا ذکر ہے اس کو ایک لفظ میں حالات زمانہ سے واقفیت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی مجتہد جس زمان ومکان میں اجتہاد کر رہا ہے، اس زمان ومکان سے وہ بھر پور واقفیت رکھتا ہو۔ وہ تقلیدی علوم میںدستگاہ کے ساتھ غیر تقلیدی علوم پر گہری نظر رکھتا ہو۔ یہ دوسری صلاحیت خارجی معلومات اور غور و فکر اور حقائق کی معرفت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں غیر مقید اجتہادی تخلیقی اجتہاد کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ اس قسم کی ایک مثال مدنی دور میں کی جانے والی صلح حدیبیہ ہے۔ اس صلح کے وقت بظاہر جو حالات تھے وہ تمام تر اہل اسلام کے خلاف تھے۔ کیوں کہ یہ ۱۰ سالہ نا جنگ معاہدہ مخالفین کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر کیا جا رہا تھا۔ صلح کے اس ظاہری پہلو کی بنا پر اس کو قبول کرنا صحابہ پر سخت گراں گزر رہا تھا۔ حتیٰ کہ عمر فاروق نے اس معاہدہ کو دمیۃ (ذلت) قرار دیا۔

اس معاملہ کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فعلم ما لم تعلموا (الفتح (۷۲) اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ : پس جانا اللہ نے جو کچھ نہ جانا تم نے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صرف دکھائی دینے والی باتوں کو جانتے تھے مگر اسی کے ساتھ کچھ بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتیں بھی وہاں موجود تھیں اور اللہ کی رہنمائی سے اللہ کے رسول نے ان بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتوں کی بنیاد پر صلح کا یہ معاہدہ کیا۔ حدیبیہ کے وقت ظاہری باتیں تو یہ تھیں کہ یہ صلح مخالفین کی یکطرفہ شرطوں پر کی جا رہی تھی۔ مگر غیر ظاہری (under current) بات یہ تھی کہ اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان جنگی حالات کی بنا پر معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ختم ہو گیا تھا۔ اب اگر دونوں فریقوں کے درمیان نا جنگ معاہدہ ہو جائے تو معتدل حالات میں لوگ ایک دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page