حل کی طرف
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۵۴
حل کی طرف
موجودہ حالت میں پاکستان کے لئے جو انتخاب (choice) ہے وہ جمہوری حکومت اور فوجی حکومت کے درمیان نہیں ہے بلکہ حقیقی انتخاب جن دو حالتوں کے درمیان ہے وہ یہ کہ پاکستان کا سفر جس بندگلی (impasse) پر آکر رک گیا ہے وہاں سے وہ اپنے آپ کو نکال کر اپنا سفر دوبارہ شروع کرے یا وہ اسی بندگلی میں بدستور پڑا رہے۔ یہاں تک کہ وہ قوموں کے عالمی روڈ میپ سے غیر موجود ہو جائے۔
کسی قوم کی زندگی میں بعض اوقات ایسا لمحہ آتا ہے جب کہ قوم کا ترقیاتی سفر رک جاتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ایک جرأت مندانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ دوبارہ قوم کا سفر معتدل انداز میں جاری ہو سکے۔ اس قسم کا نازک فیصلہ اکثر اوقات عوامی جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ اکثر ایسے افراد کرتے ہیں جو فوجی حکمراں کی حیثیت رکھتے ہوں۔ جمہوری حکمراں اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ کیوں کہ وہ عوام کی رایوں سے چن کر حکومت تک پہنچتا ہے، اس بنا پر اس کے لئے ایسا کوئی انقلابی فیصلہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے جو عوامی احساسات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
یہاں میں اس نوعیت کی دو مثالیں پیش کروں گا۔ مسلم تاریخ میں اس کی ایک مثال صلاح الدین ایوبی (وفات ۱۱۹۳ء) کی ہے۔ صلاح الدین کا یہ عظیم کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے صلیبی قوموں کی فوجی یلغار سے مسلم دنیا کو بچایا۔ مگر صلاح الدین کو یہ طاقتور حاکمانہ حیثیت کیسے ملی جب کہ وہ اپنا یہ عظیم رول ادا کر سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلاح الدین ایوبی مصر کے سلطان نور الدین زنگی کا ایک فوجی افسر تھا۔ سلطان نور الدین کی موت کے بعد اگرچہ اس کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین نے حکومت پر قبضہ کر کے سلطان کا منصب حاصل کر لیا۔ مسلم مورخین نے عام طور پر صلاح الدین کے اس قبضہ کی کارروائی کو جائز قرار دیا ہے۔ کیوں کہ یہ قبضہ اگرچہ بظاہر غیر آئینی تھا لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues