حل کی طرف
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۵۵
وہ ایک عظیم سیاسی فائدہ کا سبب بنا۔ اسی نے صلاح الدین ایوبی کے لئے اس امر کو ممکن بنایا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنا وہ عظیم کردار ادا کر سکے جو کہ اس نے اس کے بعد ادا کیا۔ دوسری مثال فرانس کے چارلس ڈیگال (وفات ۱۹۷۰ء) کی ہے۔ وہ فرانس کی فوج میں ایک جنرل تھا۔ اس کے بعد اس نے حالات سے فائدہ اٹھا کر فرانس کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بظاہر یہ ایک غیر جمہوری عمل تھا مگر فرانس کی نجات کے لئے ڈیگال نے ایک ایسا کام کیا جو کوئی جمہوری حکمراں نہیں کر سکتا تھا۔
کیوں کہ حکمراں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے وہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے کوئی جرات مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ جب کہ بعض حالات میں کسی قوم کی نجات کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے ایک جرات مندانہ فیصلہ لیا جائے۔
جیسا کہ معلوم ہے، اس وقت فرانس نے افریقہ کے کئی ملکوں مثلاً الجیرائر وغیرہ پر قبضہ کر رکھا تھا اور ان کو فرانس کے صوبے (provinces) کہتا تھا۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسی فرانس کے لئے اتنی زیادہ مہلک ثابت ہوئی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاری ہونے والی ترقیاتی دوڑ میں وہ یورپ کا ایک مرد بیمار بن گیا۔ ڈیگال نے قومی جذبات سے الگ ہو کر اس مسئلہ پر غور کیا۔ اس کی سمجھ میں آیا کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ افریقہ کی فرانسیسی کالونیوں کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا جائے۔ یہ اقدام فرانس کے عوام کے جذبات کے سراسر خلاف تھا مگر یہی وہ غیر مقبول فیصلہ ہے جس نے فرانس کو جدید ترقیاتی دوڑ میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت دے دی۔
پاکستان کی موجودہ صورت حال بھی عین یہی ہے۔ کشمیر کے سوال پر انڈیا کے خلاف پاکستان کی بلا اعلان جنگ (undeclared war) نے پاکستان کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے کہ وہ اپنی تباہی کے آخری کنارہ پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا اس کو سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک (unsafest country) کے طور پر دیکھتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری (investment) کے لئے تیار نہیں۔ پاکستانی عوام کی بے چینی نے ملک میں خانہ جنگی (civil war) جیسی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ملک
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues