Al-Risala · August 2001 · page 59

حل کی طرف

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۵۹

تھیں ۔ حتی کہ شیخ محمد عبداللہ دونوں کے بیچ میں ایک درمیانی آدمی کے طور پر پاکستان پہنچ چکے تھے ۔ مگر نہرو کی اچانک موت سے اس تاریخ ساز منصوبہ پر عمل درآمد نہ ہو سکا: By 1956, Nehru had publicly offered a settlement of Kashmir with Pakistan over the ceasefire line (now converted into the LoC). On May 23, 1964, Nehru asked Sheikh Abdullah to meet Ayub Khan in Rawalpindi in an effort to resolve the Kashmir imbroglio...... the Pakistani leader agreed to a summit with Nehru, to be held in June 1964. This message was urgently telegraphed to Nehru on May 26. But just as Nehru's consent reached Karachi, the world also learnt that Nehru had died in his sleep. And with that a major opportunity for a peaceful solution over Kashmir was also lost. (The Hindustan Times, June 18, 2001)

پاکستان اگر ایسا کرے کہ کشمیر کے بارے میں صورت موجودہ (statusquo) پر رضامند ہو کر اس کو مستقل بندوبست کے طور پر قبول کرلے تو اس میں پاکستان کا یا وسیع تر معنوں میں ملت مسلمہ کا کوئی نقصان نہیں۔ کشمیر کا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کے بعد بھی بدستور ایک مسلم خطہ کے طور پر اپنی جگہ باقی رہے گا۔ پھر اس میں آخر نقصان کی کیا بات۔ مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ برصغیر ہند کے جو مسلمان انڈیا سے جڑے انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بہت زیادہ ترقی کی۔ اس ترقی کی ایک علامت یہ ہے کہ آج نہ صرف برصغیر ہند بلکہ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند تاجر ہندوستان کا ایک مسلمان ہے جو بنگلور میں رہتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ پاکستان کا ہندوستان سے مصالحت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے طاقت ور پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا ہے۔ اور اپنے پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا گویا اپنے اوپر ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھولنا ہے۔ اپنے حریف سے نزاع کو ختم کرنا کس طرح ترقی کا زینہ بنتا ہے، اس کی ایک مثال موجودہ جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ سے مکمل مصالحت کر لی۔ اس مصالحت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان عالمی نقشہ میں اقتصادی سپر پاور بن کر ابھرا آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page