Al-Risala · August 2001 · page 58

حل کی طرف

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۵۸

ہی نہیں ، نہ ماضی اور حال میں اور نہ ہی مستقبل میں ۔

مذکورہ قسم کا انقلابی فیصلہ لینا یقینی طور پر ایک مشکل کام ہے ۔ لیکن اگر ایک بار ہمت کرکے پاکستان ایسا فیصلہ لےلے تو اس کے معجزاتی نتیجے برآمد ہوں گے ۔ انڈیا کے خلاف بلا اعلان جنگ کی حالت ختم ہوکر امن قائم ہو جائے گا ۔ پاکستانی قوم کی منفی سوچ مثبت سوچ میں تبدیل ہو جائے گی ۔ باہمی تجارت کے دروازے کھل جائیں گے ۔ تعلیم اور ثقافت اور سیاحت کے میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان لین دین شروع ہو جائے گا ۔ لٹریچر کی دو طرفہ آمد و رفت کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی اور برادرانہ ماحول قائم ہو جائے گا ۔ انڈیا اور پاکستان کی زبان اور کلچر بڑی حد تک ایک ہے ۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لئے دور کے پڑوسی (distant neighbours) بنے ہوئے ہیں ۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ دونوں قریب کے پڑوسی بن جائیں گے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں ۔

اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم کام کرنا چاہے تو اس وقت پیشگی حالات کے نتیجہ میں ایک عملی صورت حال (statusquo) موجود رہتی ہے ۔ اب سوچنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ پہلے موجود صورت حال (statusquo) کو بدلا جائے تاکہ عمل کرنے کے راستے پیدا ہوں ۔ دوسرے یہ کہ موجود صورت کو اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے بقیہ ممکن میدانوں میں اپنا عمل جاری کرنا ۔ یہ طریقہ جس کو میں مثبت اسٹیٹس کوازم(positive (positive statusquoism) کہتا ہوں، یہی عقل کے مطابق ہے ۔ یعنی جب آئیڈیل کا حصول ممکن نہ ہو تو پریکٹیکل پر راضی ہو جانا ۔ خود اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے ۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ الصلح خير (النساء ۱۲۸) ۔ یعنی نزاعی معاملات میں سب سے زیادہ بہتر اور مفید پالیسی سمجھوتہ کی پالیسی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اختلافی مواقع پر ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مصالحت کا طریقہ اختیار کرنا ۔

سٹیٹس کو (statusquo) کو مانتے ہوئے تعلقات کو مستقل بنیاد پر استوار کرنے کی یہ تجویز کوئی نئی نہیں ۔ جواہر لال نہرو کے زمانہ میں دونوں طرف کی حکومتیں مبینہ طور پر اس تجویز پر راضی ہوچکی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page