Al-Risala · January 2001 · page 39

خصوصی شمارہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹

علم سے مراد نہ رسمی علم ہے اور نہ محض معلومات۔ علم سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے شعور کو اتنا بڑھائے کہ وہ قرآن وحدیث کی سطور کے ساتھ وہ اس کے بین السطور (between the lines) کو بھی پڑھنے لگے۔ وہ کائنات کے مظاہر میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا ادراک کرنے کے قابل ہو جائے۔ اس کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہو جائے کہ وہ دنیا میں پیش آنے والے تجربات اور واقعات میں ربانی سبق اور نصیحت اخذ کرنے لگے۔ علم سے سنجیدگی آتی ہے اور سنجیدگی سے معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔

علم کس طرح معرفت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے، اس کی ایک مثال لیجئے۔ سجدہ ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے۔ سجدہ کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی سادہ طور پر اس احساس کے ساتھ سجدہ کرے کہ اس نے رب العالمین کے سامنے اپنا سر زمین پر رکھ دیا ہے۔ اس قسم کا سجدہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ مگر اس سے زیادہ عظیم وہ سجدہ ہے جس میں علم و شعور کا سرمایہ شامل ہو گیا ہو۔ یہ دوسرا سجدہ جو علم کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ سجدہ کی عبادت کو بہت زیادہ عظیم بنا دیتا ہے۔ مثلاً ایسے شعور والا آدمی جب زمین پر اپنا سر رکھے گا تو وہ تصور کرے گا کہ وہ ایک ایسے کرہ (Planet) کے اوپر حالت سجدہ میں ہے جو اپنے محور اور اپنے مدار پر بیک وقت دو قسم کی گردش کرتا ہوا سورج کے دیکھتے ہوئے الائو کے گرد اتھاہ خلا میں گھوم رہا ہے۔ پھر یہ پورا شمسی نظام ایک وسیع تر کہکشاں کی پلیٹ پر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ حالت گردش میں ہے۔ اس طرح کی بہت سی کہکشائیں انگنت ستاروں اور سیاروں کے ساتھ ایک غیبی مرکز کائنات کے گرد نا قابل شمار حد تک وسیع فاصلوں کے دائرہ میں رواں دواں ہیں۔ یہ آفاقی تصور سجدہ کرنے والے کی شخصیت کو ہیبت ناک حد تک ہلا دے گا، وہ اس کے سجدہ کو کائنات کا سب سے زیادہ عظیم واقعہ بنا دے گا۔ علم کیا ہے۔ ابتدائی مفہوم میں علم کا مطلب یہ ہے کہ مختلف ذرائع اسے اپنی معلومات میں اضافہ کیا جائے۔ کوئی عورت یا مرد اپنی معلومات میں جتنا زیادہ اضافہ کرے اتنا ہی زیادہ اس کو صاحب علم کہا جائے گا۔

مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے علم کا مقصد صرف صاحب معلومات بننا نہیں ہے بلکہ اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page