خصوصی شمارہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸
ایک خط محترمہ صوفیہ حیدر صاحبہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۰ ملا۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کے دینی شعور اور دینی جذبات میں ترقی ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے۔ ایمان رسمی عقیدہ کا نام نہیں۔ ایمان دراصل ایک دریافت (ڈسکوری) ہے۔ کسی عورت یا مرد کے اوپر جب شعوری طور پر یہ حقیقت منکشف ہو کہ اس دنیا کا ایک زندہ خالق ہے جس نے اس کو وجود بخشا ہے تو اسی دریافت کا نام ایمان ہے۔ یہ ایمان یا انکشاف جتنا گہرا ہو، اتنا ہی زیادہ اس کے اثرات صاحب انکشاف کی زندگی میں ظاہر ہوں گے۔ شعوری ایمان کی پہچان یہ ہے کہ انسان کی سوچ میں انقلاب آ جائے۔ اس کی پسند اور ناپسند کا معیار بدل جائے۔ اس کی روح کی گہرائیوں میں اللہ کی یاد اس طرح سما جائے کہ ہر واقعہ اور ہر تجربہ اس کو اللہ کی یاد دلانے والا بن جائے۔ یہ ایمان کوئی جامد چیز نہیں۔ وہ درخت کی مانند ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ جب کسی کو اللہ کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اللہ کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے، وہ اپنے آپ کو روحانی طور پر اللہ کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو حدیث میں یتاجی ربہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ سے اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ وہ اللہ کو پکارتا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے وہ اس کا جواب پاتا ہے (ادعوني استجب لكم)۔
اس سلسلہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ کی معرفت کا نہایت گہرا تعلق علم سے ہے۔ فارسی کا ایک شعر بالکل درست ہے: کہ بے علم نتواں خدا را شناخت (علم کے بغیر خدا کو پہچانا نہیں جا سکتا)۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ علم اتنی ہی زیادہ معرفت۔ اس لئے جو عورت یا مرد اعلیٰ ایمان حاصل کرنا چاہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے علم کو بڑھائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues