Al-Risala · August 2001 · page 61

پنجاب کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۱

پنجاب کا سفر

ایک آل انڈیا کلچرل تنظیم ہے جو اپنے مخفف نام اسپک میکے (Spic Macay) سے مشہور ہے۔ اس کی دعوت پر پنجاب کا سفر ہوا۔ ۱۴ ستمبر ۲۰۰۰ کی صبح کو سورن شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ دہلی سے روانہ ہو کر پہلے امرتسر پہنچا جو کہ دہلی سے ساڑھے چار سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں سے اگلے دن جالندھر کے لئے بذریعہ ٹرین روانگی ہوئی۔ جالندھر سے دوبارہ ۱۶ ستمبر کی شام کو شتابدی ایکسپریس سے روانہ ہو کر دہلی واپس آیا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ سفر سے کچھ پہلے دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے ۱۲ ستمبر ۲۰۰۰ کا ٹائمس آف انڈیا دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا، کیا اس میں کوئی خاص بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے صفحہ اول پر پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپئی کے بارے میں ایک رپورٹ ہے۔ اس کو آپ ضرور پڑھیں۔ اتفاق سے میں اس پرچے کو پڑھ نہیں سکا تھا۔ مذکورہ ٹیلی فون کے بعد میں نے اس کو لے کر پڑھا۔ یہ رپورٹ اخبار کے صفحہ اول پر مندرجہ ذیل عنوان کے تحت چھپی ہے: The Sangh is his ‘soul’. اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مسٹر اٹل بہاری واجپئی نے مئی ۱۹۹۵ میں آرگنائزر میں لکھا تھا کہ آر ایس ایس دو مقاصد کے تحت قائم کی گئی۔ ایک، ہندوؤں کو منظم کرنا۔ دوسرے یہ کہ غیر ہندوؤں مثلاً مسلمانوں اور عیسائیوں کو دیش کی مین اسٹریم (قومی دھارے) میں شامل کرنا۔ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اس ملک کے لئے حب الوطنی کا جذبہ ان کے اندر موجود ہو۔ (انہوں نے مزید کہا کہ ) مسلمانوں کو ابھی یہ فن سیکھنا ہے کہ جس ملک میں وہ اقلیت میں ہیں وہاں وہ کس طرح رہیں اور ترقی کریں۔ قرآن اس سلسلہ میں کوئی رہنمائی نہیں دیتا: The RSS has a two fold task. One is to organize the Hindus. The other is to assimilate the non-Hindus like Muslims and Christians in the main stream. They can follow the faith of their own conviction, but they must have a feeling of patriotism for this

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page