پنجاب کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱، صفحہ ۶۲
country...Muslims have yet to learn the art of existing and flourishing in a country where they are in a minority. The Quran offers no guidance in this regard. ”سنگھ“ کے لوگوں کا یہ احساس کیوں ہے کہ اس ملک کے مسلمان محب وطن نہیں۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مبنی بر وطن قومیت (Home-land based nationality) کا اصول رائج ہوا۔ یہ اصول اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے بالکل فطری تھا اور وہ بلاشبہ مسلمانوں کے لئے بھی اسی طرح قابل قبول تھا جس طرح وہ دوسروں کے لئے قابل قبول ہے۔
مگر یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ یہ کہ کچھ انتہا پسند ہندو دانشوروں نے حب الوطنی کی ایک خود ساختہ تشریح کی۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا صحیح جذبہ صرف اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ وطن کو معبود کا درجہ دے کر اس کو قابل پرستش سمجھا جائے ۔ اس قسم کے انتہا پسند مفکرین خود یورپ میں بھی پیدا ہوئے ۔ یہی کچھ انتہا پسند مفکرین تھے جن کو غلط طور پر جنرلائز کر کے اقبال نے اپنی مشہور نظم میں کہا تھا کہ تہذیب جدید کے آذر نے کچھ نئے صنم ترشوائے ہیں:
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے اس مسئلہ کا حل منفی احتجاج نہیں۔ اس مسئلہ کا درست حل یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ مبنی بر وطن قومیت کا نظریہ بالکل درست اور فطری ہے۔ مگر یہ قومیت وطن کی فطری محبت پر قائم ہوتی ہے نہ کہ وطن کی پرستش پر جو سراسر غیر فطری اور غیر عملی ہے۔
سورن شتابدی ایکسپریس ٹھیک اپنے وقت پر نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ کر کھڑی ہوگئی۔ میں اس کے ایگز یکٹیوکلاس میں داخل ہوا۔ یہ تقریباً اسی قسم کی ایک کوچ تھی جو میں نے اس سے پہلے یورپ کی ٹرینوں میں دیکھی تھی۔ اس کے اندر زیادہ تر خوش حال طبقہ کے لوگ سفر کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا تو ہر مسافر کے چہرہ پر فخر اور شادمانی کے جذبات نمایاں تھے۔ کوئی آرام دہ سیٹ کے اوپر بے فکری کے ساتھ دراز تھا۔ کوئی اپنے سیلولر ٹیلی فون پر فاتحانہ لہجہ میں اپنے کسی دوست سے بات کر رہا تھا۔ کوئی ہنس ہنس کر اپنے ساتھی کے ساتھ گفتگو میں مشغول تھا۔ ان مناظر کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues