You will need information to back up your ideas.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱
ایک خط
برادر محترم جناب عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۵ ستمبر ۲۰۰۰ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ آپ نے ناگپور میں جو کام شروع کیا ہے وہ بہت اہم کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنائے۔ آپ اپنے اس گروپ کا نام پازیٹیو تھنکرس فورم (Positive Thinkers' Forum) رکھیں۔ میرے خیال سے یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
پازیٹیو تھنکنگ سے مراد ایجابی فکر یا مثبت فکر ہے۔ اس کا مطلب ہے مبنی بر حقیقت سوچ، ردِ عمل سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچنا، ماحول سے آزاد ہو کر اپنی رائے قائم کرنا: Positive thinking is—— thinking independent of circumstance. یہ مثبت طرزِ فکر کسی انسان کی سب سے زیادہ اہم خصوصیت ہے۔ ذہنی ارتقاء اور عملی کامیابی کا سب سے زیادہ انحصار اسی صفت پر ہے۔
قرآن میں صبر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، خسران سے بچنے کا واحد راز صبر ہے (العصر) اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر کی روش ہی پازیٹیو تھنکنگ کی اصل بنیاد ہے۔ پازیٹیو تھنکنگ اپنی فطرت پر قائم رہنے سے حاصل ہوتی ہے، اور صبر اس بات کا ضامن ہے کہ آدمی کسی بھی حال میں اپنی فطرت سے ہٹنے نہ پائے۔
موجودہ دنیا میں ہر لمحہ اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ آدمی منفی نفسیات کا شکار ہو جائے۔ کسی سے ناخوش گوار تجربہ ہو تو اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اٹھے۔ کوئی شخص انا کو ٹھیس پہنچائے تو اس کے خلاف انتقام کی نفسیات بیدار ہو جائے۔ کسی کو اپنے سے بڑا دیکھے تو اس سے حسد کرنے لگے۔ کوئی تنقید کر دے تو اس کو ذلیل کرنے کے درپے ہو جائے۔ کسی سے توقعات پوری نہ ہوں تو اس کو برا سمجھنے لگے۔ کوئی نقصان پیش آئے تو مایوسی کا شکار ہو کر رہ جائے، وغیرہ۔ انہی جذبات کا نام منفی جذبات ہے اور کسی آدمی پر جب منفی جذبات طاری ہو جاتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues