You will need information to back up your ideas.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲
تو وہ اس کو اس کی اپنی فطرت سے ہٹا دیتے ہیں۔ اس کی عقل سلیم کام کرنے سے رک جاتی ہے۔ اس کی نظر محدودیت کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔
منفی ذہن کے دو سب سے بڑے نقصانات ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کوئی شخص آپ کے خلاف اشتعال انگیز بات کہے، اور آپ اس سپر مشتعل ہو جائیں تو اس وقت آپ مذکورہ شخص کا طاقت ور جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ مشتعل انسان عین اپنے مزاج کے مطابق دل کی بھڑاس نکالنے والی باتیں بولنے لگتا ہے۔ وہ سب وشتم کے جواب میں خود بھی سب وشتم کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کے اندر مثبت سوچ ہو تو وہ اپنے ذہن کی پوری صلاحیت کو استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ سب وشتم کا جواب دلائل اور حقائق کی زبان میں دے۔ وہ ایسا طاقت ور جواب دے جس کے بعد خود اس کا حریف اپنے آپ کو غلط سمجھنے پر مجبور ہو جائے۔
یہی معاملہ عمل کا ہے۔ جس آدمی کے اندر منفی سوچ ہو وہ یہ کرتا ہے کہ جب کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ جوابی کارروائی کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ وہ اپنا منصوبہ اس ذہن کے تحت بناتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے مخالف کو مغلوب کر سکے۔ اس کے برعکس جس آدمی کے اندر منفی سوچ ہو وہ صرف جوابی کارروائی نہیں کرے گا بلکہ وہ پیش آمدہ صورت حال سے اوپر اٹھ کر وسیع تر حقائق کی روشنی میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے گا۔ وہ سارے حالات اور امکانات کا جائزہ لے کر اپنے عمل کا نقشہ بنائے گانہ کہ محدود طور پر صرف حریف کے پیدا کردہ حالات کی روشنی میں زور آزمائی کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا منصوبہ حقائق پر مبنی منصوبہ ہوگا، اور جو منصوبہ حقائق پر مبنی ہو اس کی کامیابی کو کوئی چیز روکنے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مثبت سوچ یا پازیٹیو تھنکنگ کسی انسان کے لئے فطرت کا عظیم تحفہ ہے۔ مثبت سوچ مسٹر مین کو مسٹر پر مین بنا دیتی ہے۔ منفی سوچ ہمیشہ منفی نتیجہ پیدا کرتی ہے، اور مثبت سوچ ہمیشہ مثبت نتیجہ۔
نئی دہلی، ۲۳، اکتوبر ۲۰۰۰ دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues