تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۶
تاریخ کا مطالعہ
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی تاریخ گھڑی کے پنڈولم کی طرح بار بار ایک انتہاء سے دوسرے انتہاء کی طرف گردش کرتی رہی ہے۔ شخصی حکمرانی سے عوامی جمہوریت کی طرف، غلامی سے آزادی کی طرف، انفرادی نظام سے سوشلسٹ نظام کی طرف، کنٹرول اکانومی سے لبرل اکانومی کی طرف، وغیرہ۔
اس تاریخی صورت حال کو کارل مارکس نے جدلی مادیت (dialectical materialism) کا نام دیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ تاریخ انسانی کا ارتقائی سفر ہے جو فطرت کے اپنے لازمی قوانین کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کے نزدیک فطرت کا یہ عمل انسانی سماج میں طبقاتی کش مکش کے ذریعہ ہوتا ہے۔ سماج کے اندر پہلے داخلی قوانین کے تحت ایک مقدمہ (thesis) سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد خود انسانی سماج کے داخلی قوانین کے تحت جوابی مقدمہ (anti-thesis) ظہور میں آتا ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک نیا امتزاج (synthesis) بنتا ہے۔ یہ عمل بار بار جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ انسانی تاریخ اپنے آخری ارتقائی درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔
کارل مارکس (۱۸۱۸- ۱۸۸۳) کی یہ بات محض ایک خیالی مفروضہ تھی۔ یہ خیالی مفروضہ علمی اعتبار سے اول دن ہی سے غیر ثابت شدہ تھا۔ مگر ۱۹۹۱ میں روس کے کیونسٹ سسٹم کا ٹوٹنا، اور اسی طرح ہندوستان سمیت دوسرے اس قسم کے ملکوں میں سوشلسٹ معاشیات کا مکمل طور پر ناکام ہو جانا، مارکس کے نظریہ کی آخری تردید ہے۔
مارکس اور اس کے ساتھیوں نے اپنے تجزیہ کے مطابق یہ دعویٰ کیا تھا کہ انسانی تاریخ ہزاروں سال کے جدلیاتی سفر کے بعد اپنی آخری ارتقائی منزل تک پہنچ چکی ہے۔ یہ آخری ارتقائی منزل اس کے نزدیک سوشلسٹ سماج تھا۔ مگر بیسویں صدی کے آخر میں سوشلسٹ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues