تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۷
اکانومی کی تباہ کن ناکامی نے آخری طور پر ثابت کر دیا ہے کہ مارکس اور اس کے ساتھیوں نے انسانی زندگی کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ صرف ایک تخیلاتی مفروضہ تھا، وہ کسی بھی درجہ میں حقائق وواقعات پرمبنی نہ تھا۔
کارل مارکس اور اس طرح کے دوسرے مفکرین کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے انسانی تاریخ کو زندہ اور غیر زندہ مادی کائنات پر قیاس کیا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح مادی کائنات ناقابل تغیر فطری قوانین (natural laws) کے تحت چل رہی ہے، اسی طرح انسانی تاریخ بھی اٹل قسم کے غیر متغیر قوانین کے تحت اپنا سفر کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ قیاس مع الفارق تھا۔ بے جان مادہ بلاشبہ غیر متغیر قوانین کا پابند ہے۔ مگر انسان ایک آزاد اور با اختیار مخلوق ہے، وہ خود اپنے ارادہ کے تحت عمل کرتا ہے، نہ کہ لازمی قسم کے کسی خارجی قانون کے تحت۔ انسان کی یہی بے قید آزادی وہ چیز ہے جو تمام تاریخی مسائل کی اصل ذمہ دار ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ کے تمام مسائل انسانی آزادی کے غلط استعمال (misuse) کا نتیجہ ہیں۔
انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک دہرا مشکل (dilemma) کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ اپنے قول اور عمل کے لئے مکمل طور پر آزاد ہے، اسے کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ مگر معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسے ایک ایسی دنیا میں کرنا ہے جس کو اس نے نہ خود بنایا اور نہ وہ اس کے احکام کی تابع ہے۔ یہ خارجی دنیا انسانی ارادے سے آزاد خود اپنے محکم قوانین کے تحت عمل کرتی ہے۔
اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کے اظہار کے اعتبار سے تو کامل طور پر آزاد ہے، مگر اپنے ارادے کی کامل تعمیل کے اعتبار سے وہ آزاد نہیں۔ اپنے ذہن کے دائرہ میں سوچتے ہوئے بظاہر وہ اپنے آپ کو پوری طرح آزاد پاتا ہے، مگر جیسے ہی وہ اپنی ذہنی سوچ کو خارج میں واقعہ بنانا چاہتا ہے، اس کو فورا ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہاں مختلف قسم کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues