Al-Risala · August 2001 · page

C:\Inpage\Aug-2001

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

تو اچانک یہاں اس کے بجائے گرم موسم تھا ، ایک طرف ٹھنڈا اور دوسری طرف گرم کا یہ ماحول دیکھ کر مجھے قرآن کی آیت یاد آئی: باطنه فيه الرحمة و ظاهره من قبله العذاب (الحديد ۱۳) ایک تفسیر کے مطابق ، اس آیت میں رحمت اور عذاب کے الفاظ تعبیری طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ یہاں رحمت سے مراد مومنین کا نور ہے اور عذاب سے مراد منافقین کی ظلمت۔ (القرطبی، ۱۷/ ۲۴۶)

اس کے مطابق، آیت کا مطلب یہ ہے کہ مومن اور منافق کے درمیان جو چیز تفریق کرتی ہے، وہ یہ کہ مومن اپنے درست ذہن کی بنا پر حقیقتوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے اور منافق اس کے برعکس حقیقتوں کو منفی انداز میں دیکھتا ہے۔ یہی فرق آخرت میں یہ صورت اختیار کرے گا کہ منافق عذاب میں گھر جائے گا اور مومن رحمتوں کے سائے میں رہے گا۔

۱۶ ستمبر ۲۰۰۰ کی رات کو میں واپس دہلی پہنچا۔

C:\Inpage\Aug-2001

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page