Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

جس طرح ایک فرد جوانی کے بعد بوڑھا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم عروج کے بعد زوال (degeneration) کا شکار ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو اقبال نے اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے: آنجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر اقبال نے کسی قوم کے زوال کا سبب تو بالکل درست لکھا ہے مگر عروج کے بارے میں ان کا نظریہ درست نہیں۔ قرآن کے مطابق، کسی قوم کے عروج کاراز نفع بخشی (الرعد ۱۷) کی طاقت ہے نہ کہ شمشیر زنی کی طاقت۔ اقبال کے شعر کو زیادہ صحیح طور پر اس طرح ہونا چاہئے: آنجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے تعمیر و عطا اول طاؤس و رباب آخر مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں دنیا کو بہت سی ترقیاں دیں مگر ان کی تمام ترقیاں روایتی معنوں میں تھیں۔ روایتی اعتبار سے انہوں نے ترقی کے عمل کو اپنی آخری حد تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد انسانیت کو ترقی کے اگلے مرحلہ میں پہنچانا تھا۔ یعنی روایتی ترقی کے دور سے نکال کر مشینی ترقی کے دور میں لے جانا۔ یہ کام مسلمان نہیں کر سکتے تھے۔ کیوں کہ روایتی ترقی کے دور کو آخری حد تک پہنچاتے پہنچاتے وہ اپنے زوال کے اس دور میں پہنچ چکے تھے جب کہ قومیں عیش و راحت میں مبتلا ہو کر قوت عمل کھو دیتی ہیں۔

عین اس وقت قانون فطرت (محمد ۳۸) کے تحت مسلمانوں کو غلبہ و اقتدار کے مقام سے ہٹا کر مغربی قوموں کو وہاں پہنچا دیا گیا۔ اسی تبدیلی کا نتیجہ وہ تمام سائنسی ترقیاں ہیں جو آج ساری دنیا میں نظر آتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا کہ زوال کے باوجود مسلمان ہی دنیا پر غالب رہتے تو جدید ترقيات کا دور سرے سے شروع ہی نہ ہوتا۔

تبدیلی کے اس عمل کو جو لوگ سازش اور ظلم کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں وہ صرف اپنی قومی خواہشات کو جانتے ہیں۔ انہیں فطرت کے قانون کی خبر نہیں۔

۱۶ ستمبر ۲۰۰۰ کی رات کو گیارہ بجے ہماری ٹرین دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ ٹرین کی جس کوچ میں میرا یہ سفر ہوا وہ مکمل طور پر ائیر کنڈیشینڈ تھی۔ جب میں اس سے نکل کر باہر پلیٹ فارم پر آیا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page