Al-Risala · September 2001 · page

بے اعترافی سے سرکشی تک

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

بے اعترافی سے سرکشی تک

عربی کا ایک مثل ہے: اتق شر من احسنت الیہ (اس آدمی کے شر سے بچو جس کے اوپر تم نے احسان کیا ہے۔ یہی بات ایک عربی شاعر نے مزید اضافہ کے ساتھ اس طرح کہی ہے___ اگر تم شریف آدمی کے ساتھ احسان کرو تو تم اس کو اپنا بنا لو گے، اگر تم کمینہ آدمی کے ساتھ احسان کرو تو وہ سرکشی کرے گا:

اذا أنت اکرمت الکریم ملکته اذا أنت اکرمت اللئیم تمرد اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا جائے تو جلد ہی وہ اپنے محسن کا مخالف بن جاتا ہے۔ وہ اپنے محسن کو بدنام کرنے کی مہم چلاتا ہے۔ وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے ذریعہ ثابت کرتا ہے کہ اس کا محسن ایک انتہائی برا آدمی ہے۔ ایسے کردار کا تجربہ ماضی میں بھی بار بار لوگوں کو ہوا اور آج بھی ایسے کردار کی مثالیں ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں۔

ایسا کیوں ہے۔ آدمی کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ اپنے محسن کے خلاف کردار کشی کی مہم چلاتا ہے۔ یہ در حقیقت وہی چیز ہے جس کو پردہ ڈالنے کی تدبیر (cover up tactics) کہا جاتا ہے۔ جو آدمی بے اعترافی کی نفسیات میں جی رہا ہو وہ عین اپنے مزاج کے مطابق یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ ثابت کرے کہ اس کے اوپر کسی کا احسان نہیں ہے، اس نے جو کچھ پایا ہے خود اپنی ذاتی لیاقت کے ذریعہ پایا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی اور کے دینے سے اس کو مل گیا ہے۔

اسی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے محسن کو برا ثابت کرنے کی مہم چلا دیتا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا محسن ہر قسم کی برائیوں کا مجموعہ ہے۔ اس طرح وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کا محسن اس قابل ہی نہیں کہ وہ کوئی اچھا کام کرے، پھر وہ میرے ساتھ کہاں سے احسان کا معاملہ کرے گا۔

اپنے محسن کے خلاف عیب زنی کی مہم چلانا در اصل اپنی کمی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page