بے اعترافی سے سرکشی تک
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۵
اگر اپنے محسن کا اعتراف کرے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میرا قد محسن کے مقابلہ میں چھوٹا ہو گیا۔ اس لئے محسن کے قد کو چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کے اپنے قد کی مفروضہ بڑائی باقی رہے۔ محسن کے احسان کا اعتراف کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ عظیم خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ آدمی جب اپنے محسن کا اعتراف کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور تواضع کی صفت بلاشبہ تمام انسانی خوبیوں کا سرچشمہ ہے، خواہ اس کا تعلق بندوں سے ہو یا خدا سے۔ اس کے برعکس جب آدمی اپنے محسن کے احسان کا اعتراف نہ کرے تو اس کے نتیجہ میں اس کے اندر گھمنڈ (arrogance) کی نفسیات جاگتی ہے۔ وہ غرور کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور غرور کی نفسیات بلاشبہ تمام انسانی برائیوں میں سب سے زیادہ تباہ کن برائی ہے۔ اس قسم کی نفسیات آدمی کو آخری حد تک خدا پرستانہ زندگی سے دور کر دیتی ہے۔
اس معاملہ کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ جو آدمی اپنے محسن کا احسان نہ مانے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر احسان مندی کی نفسیات کا خاتمہ کر رہا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اس سب سے بڑی عبادت کے لئے نااہل بنا رہا ہے کہ وہ اپنے خالق کا احسان مانے۔ وہ اپنے خالق کے انعامات کا اعتراف کر کے اس کی ابدی رحمتوں کا مستحق بن جائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص انسان کا احسان نہ مانے وہ اللہ کا احسان بھی نہیں مانے گا (من لم يشكر الناس لم يشكر الله)۔
احسان مندی ایک انتہائی شریف انسانی جذبہ ہے۔ جو آدمی اپنے محسن کا احسان نہیں مانتا وہ گویا اپنے سینہ کے اندر اس شریف ترین جذبہ کی پرورش کا دروازہ بند کر رہا ہے۔ دوسرے کو ہلاک کرنے کی نا کام کوشش میں وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر رہا ہے۔ یقیناً اس سے زیادہ بڑی محرومی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ دوسرے کو ہلاک کرنے کی نا کام کوشش میں آدمی خود اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues