جذبہ شکر کی حفاظت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
مگر یہ کوئی آسان بات یں۔ اپنے آپ کو شکر کے جذبہ سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کا شعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو۔ وہ اس کا مسلسل اہتمام کرے۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ دے جو اس کے جذبہ شکر کو مجروح کرنے والا ہو۔ وہ سب کچھ برداشت کرلے مگر وہ اپنے جذبہ شکر کا کٹاؤ (erosion) کبھی برداشت نہ کرے۔
موجودہ دنیا میں فطری طور پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نابرابری قائم رہتی ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مادی اعتبار سے کوئی اس سے کم ہے اور کوئی اس سے زیادہ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس سے زیادہ ہے تو اس کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوگا اور اس کا جذبہ شکر دب کر رہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کو ایسا کبھی نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنا موازنہ نہ اس سے کرے جو مادی اعتبار سے بظاہر اس سے زیادہ ہے۔ اس کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنا موازنہ نہ ان لوگوں سے کرے جو مادی اعتبار سے اس سے کم ہیں۔ اس طرح اس کا جذبہ شکر زندہ رہے گا۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہو سکے گا۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تمام لوگ مادی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ کوئی زیادہ ہوتا ہے اور کوئی کم، کوئی پیچھے ہوتا ہے اور کوئی آگے، کوئی طاقت ور ہوتا ہے اور کوئی کمزور۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے، مگر وہ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کو زندہ رکھے۔
وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھر بھی اس کے شکر کے جذبہ میں کوئی کمی نہ آئے۔ وہ بے اعترافی کی صورت حال سے گزرے، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچار ہو، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرزِ فکر پر قائم رکھے۔ شکر وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے سینہ کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے، حتی کہ انتہائی غیر موافق صورت حال میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues