غیر حکیمانہ اسلوب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
غیر حکیمانہ اسلوب
پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف جلاوطنی کے بعد سعودی عرب میں ہیں۔ ریاض سے نکلنے والے ہفتہ وار عربی ' اخبار العالم الاسلامی کے شمارہ ۲۲ صفر ۱۴۲۲ھ مطابق ۱۸ مئی ۲۰۰۱ء میں اُن کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ مسٹر نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں، اسلام اور اہل اسلام کے خلاف عالمی دشمنی موجود ہے (نعم ھناک عداء عالمی للإسلام وأھلہ)۔ پھر اسی انٹرویو میں نواز شریف صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں داخلی کمیاں ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ ہم پہلے خود اپنا محاسبہ کریں اس سے پہلے کہ ہم دوسروں کو الزام دیں (أرى أن نحاسب أنفسنا قبل أن نتھم الآخرين)۔
موجودہ زمانہ کے اکثر لکھنے والے اور بولنے والے لوگ مسلمانوں کو اسی قسم کی دو طرفہ نصیحت کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ مسلمانوں کو یہ خبر دیں گے کہ دوسری قومیں ان کی دشمن ہوگئی ہیں اور دوسری طرف وہ مسلمانوں سے کہیں گے کہ تم لوگ اپنی داخلی کمیوں کو دور کرو۔ اس قسم کی نصیحت سراسر غیر مفید ہے۔ جب مسلمانوں کو یہ بتایا جائے کہ تمہارے خلاف ساری دنیا میں دشمنی اور سازش کا ماحول بنا ہوا ہے تو ایسی حالت میں مسلمانوں کے اندر جو چیز پیدا ہوگی وہ غصہ اور نفرت ہے نہ کہ مثبت عمل کا جذبہ۔ کلام کا یہ انداز آدمی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تم مسائل سے گھر ے ہوئے ہو، جب کہ صحیح اندازِ کلام وہ ہے جو آدمی کے سامنے مواقع کار کی نشاندہی کرے ۔
نصیحت کا صحیح اور فطری طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ بتایا جائے کہ جس چیز کو تم دشمنی سمجھ رہے ہو وہ فطری مسابقت ہے۔ اس قسم کی مسابقت اورچیلنج ہمیشہ دنیا میں رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہم کو چاہئے کہ اس "دشمنی " کو فطرت کا قانون سمجھ کر اس کو قبول کریں اور محنت اور دانش مندی کے ذریعہ اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ تعمیری عمل ہمیشہ تعمیری جذبہ کے تحت کیا جاتا ہے، منفی جذبہ کے تحت کبھی کوئی تعمیری عمل انجام نہیں پاتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues