Al-Risala · September 2001 · page

نماز کی پہچان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

نماز کی پہچان

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: واقم الصلوة ان الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنكر (العنکبوت ۴۵) یعنی تم نماز قائم کرو، بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی نماز کی پہچان کیا ہے۔ حقیقی نماز کی پہچان یہ ہے کہ وہ نمازی کے لئے ناہی منکرات بن جائے، وہ نمازی کو ناپسندیدہ باتوں اور برے کاموں سے روکنے لگے۔ جس نماز میں یہ صفت پائی جائے وہی اللہ کی مطلوب نماز ہے اور جو نماز اس صفت سے خالی ہو وہ بلاشبہ اللہ کی مطلوب نماز نہیں۔

نماز ناہی منکرات کیسے بنتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ آدمی جب نماز کو اس کی ظاہری صورت اور داخلی اسپرٹ کے ساتھ ادا کرے تو اس سے آدمی کے اندر وہ حساسیت بیدار ہوتی ہے جس کو قرآن میں خشوع کہا گیا ہے۔ یہی حساسیت وہ چیز ہے جو آدمی کے لئے ناہی منکرات بن جاتی ہے۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک شخص کے اندر صفائی کا گہرا احساس پیدا ہو جائے تو وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کہ پھل کھانے کے بعد اس کا چھلکا راستہ میں ڈال دے یا دیا سلائی اور سگریٹ کے خالی ڈبے استعمال کے بعد سڑک پر پھینک دے۔ ایسے آدمی کے لئے اس کا صفائی کا مزاج اس قسم کے کسی فعل کے لئے ایک مستقل داخلی رکاوٹ بن جائے گا۔ اسی طرح جو آدمی نماز کو اس کی حقیقی صورت میں ادا کرے تو اس کے اندر لازمی طور پر خشوع اور تقویٰ کا مزاج پرورش پاتا ہے۔ یہی مزاج اس کے لئے اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ منکرات اور فواحش میں ملوث ہو۔ اپنے اس عبادتی مزاج کی بنا پر اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ منکرات و فواحش سے اسی طرح بچنے لگتا ہے جس طرح صفائی کا مزاج رکھنے والا اپنے آپ کو گندی چیزوں سے بچاتا ہے۔ جو نماز آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج پیدا کرے وہی اللہ کی مطلوب نماز ہے۔ اور جس نماز سے آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا نہ ہو وہ اللہ کی مطلوب نماز نہیں، اگر چہ وہ بظاہر نماز دکھائی دیتی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page