Al-Risala · September 2001 · page

شکر یا سرکشی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

شکر یا سرکشی

ایک اچھی چیز آپ کو ملتی ہے۔ اس کو اگر آپ اپنی محنت اور قابلیت کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کے اندر سرکشی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اور اگر آپ اس کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھیں تو آپ کے اندر شکر کا جذبہ جاگ اٹھے گا۔ پہلی کیفیت کا نام گمراہی ہے اور دوسری کیفیت کا نام ہدایت یابی۔ موجودہ دنیا کو امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ تمام واقعات بلاشبہ اللہ کی مرضی سے اور اس کے اذن سے ہو رہے ہیں۔ مگر تمام واقعات پر اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اسباب کے ظاہری پردہ کو ہٹا کر اصل واقعہ کو دیکھے اور اس پر ایمان لائے۔ آپ کے اندر ایک چیز کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ آپ اس کے لئے کوشش شروع کرتے ہیں۔ آپ کی کوشش مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ کہیں آپ اپنا ذہن استعمال کرتے ہیں، کہیں اپنی عملی طاقت لگاتے ہیں اور کہیں اپنا اثاثہ خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح بظاہر اسباب و علل کے راستہ سے گزرتی ہوئی آپ کی کوشش اپنے انجام تک پہنچتی ہے۔ آپ اپنے مقصود کو پا لیتے ہیں۔ اب اگر آپ کو صرف ظاہر میں نگاہ حاصل ہے تو آپ اپنی کامیابی کو اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھیں گے۔ لیکن اگر آپ کو وہ نگاہ حاصل ہو جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھ سکے تو آپ جان لیں گے کہ جو ہوا وہ خدا کے کئے سے ہوا، یہ میرا کوئی ذاتی کارنامہ نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہو رہا ہے۔ آدمی پر لازم ہے کہ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر اندرونی حقیقت کو دیکھے۔ بظاہر اپنے ہاتھ سے ہونے والے کام کے بارہ میں یہ دریافت کرے کہ وہ حقیقتہً خدا کے ہاتھ سے انجام پا رہا ہے۔

جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دے سکیں وہی معرفت والے لوگ ہیں اور جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت نہ دیں وہی وہ لوگ ہیں جو معرفت سے محروم رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page