Al-Risala · September 2001 · page

تجزیاتی اسلوب، شاعرانہ اسلوب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

تجزیاتی اسلوب، شاعرانہ اسلوب

تجزیاتی اسلوب کیا ہے اور تخیلاتی اسلوب کیا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھئے۔ ایک شاعر گلاب کے درخت کو دیکھتا ہے۔ اس کی شاخ میں لطیف پھول کے ساتھ کانٹے بھی لگے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر شاعر کے ذہن میں ایک خیالی مضمون آتا ہے۔ وہ اس مضمون کو ایک شعر کے روپ میں اس طرح ڈھال دیتا ہے:

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ محض خیال آرائی ہے۔ اس لئے کہ گلاب کے کانٹوں نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ دفاعی فوج بن کر پھول کی حفاظت کریں۔ جب بھی کوئی شخص پھول توڑنا چاہتا ہے تو وہ نہایت آسانی سے پھول کو توڑ لیتا ہے اور شاخ میں لگے ہوئے کانٹے بدستور غیر متحرک حالت میں پڑے رہتے ہیں۔

البتہ پھول کا حسن خود اپنی ذات میں پھول کی حفاظت ہے۔ جب بھی کوئی شریر بچہ یا کوئی بے حس آدمی پھول کو توڑنا چاہتا ہے تو تمام باذوق افراد پھول کی حمایت میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھول کو توڑ کر اس کو برباد نہ کرو بلکہ اس کے حسن سے تم خود بھی محوظ ہو اور دوسروں کو بھی اس سے محظوظ ہونے کا موقع دو۔ ہر پھول جو اپنی شاخ میں کھل کر اپنی بہار دکھاتا ہے وہ خود اپنے حسن کی بدولت زمین کی زینت بنتا ہے نہ کہ کانٹوں کی حفاظت کی بدولت۔

گلاب کے پھول کے واقعہ کو اگر آپ تجزیاتی نظر سے دیکھیں تو آپ کو اس میں یہ سبق ملے گا کہ اس دنیا میں کوئی آدمی اگر اپنے اندر کوئی خوبی یا نفع بخشی پیدا کرلے تو اس کی یہ صفت اپنے آپ اس کی حفاظت کی ضمانت بن جائے گی۔ لیکن اسی واقعہ کو اگر تخیلاتی نظر سے دیکھا جائے تو دیکھنے والا نہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھے گا اور نہ وہ اس سے کوئی نصیحت لینے میں کامیاب ہو سکے گا۔ تجزیاتی طریقہ آدمی کے شعور کو جگاتا ہے اور تخیلاتی طریقہ آدمی کو بے شعوری کے اندھیرے میں گم ہونے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page