دشمن اور مقاتل کا فرق
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
دشمن اور مقاتل کا فرق
قرآن میں ایک طرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمہارا دشمن ہو تب بھی تم اس کے ساتھ احسن طریق پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے (حم السجدة ۳۴) دوسری طرف قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے تم سے قتال نہیں کیا ان سے تم کو بھلائی کا معاملہ کرنا چاہئے مگر اللہ اس سے روکتا ہے کہ تم ان لوگوں سے بھلائی کے ساتھ معاملہ کرو جو تمہارے ساتھ قتال کر رہے ہیں (ممتحنہ ۸)
ان دونوں آیتوں کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن عدو (enemy) اور مقاتل (combatant) کے درمیان فرق کرتا ہے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمہارا دشمن ہو تب بھی تم کو اس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہئے تاکہ دعوت کا عمل معتدل انداز میں جاری رہے۔ ظاہری دشمنی کو اختلاط (interaction) میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے کیوں کہ اختلاط سے دعوت کا عمل جاری رہتا ہے اور دعوت کا عمل دشمن کو بھی دوست بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ البتہ مُحارب یا مقاتل (combatant) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عملاً اور یکطرفہ طور پر اہل ایمان کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ہنگامی اصول یا جنگی اخلاقیات کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ ان کے ساتھ اس وقت تک قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے جب تک وہ جنگ سے باز نہ آئیں۔
یہ ایک بے حد اہم فرق ہے جس کو عملی زندگی میں اختیار کرنا ضروری ہے۔ اہل ایمان اگر اس فرق کو نہ سمجھیں تو وہ دشمن سے بھی مقاتل جیسا معاملہ کرنے لگیں گے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کے دعوتی مصالح مجروح ہوں گے اور دعوت و تبلیغ کا مطلوب عمل رک جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ بالفعل مسلح جنگ چھیڑ دے اس کے مقابلہ میں تو سخت احتیاط کا برتاؤ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ معتدل تعلق سے بھی پرہیز کیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کے ذریعہ مقاتل فریق اہل ایمان کے جنگی راز معلوم کرلے۔ مگر جہاں تک عام انسان کا تعلق ہے تو ظاہری دوستی یا ظاہری دشمنی کا لحاظ کئے بغیر ہر ایک سے یکساں انسانی تعلق قائم رکھا جائے گا۔ تا کہ اسلام کا دعوتی عمل غیر منقطع طور پر جاری رہے، وہ کسی حال میں رکنے نہ پائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues