Al-Risala · September 2001 · page

تبصرہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

زور سے یہ الفاظ کہنا : میں اس سے زیادہ ہوں جتنا میں دکھائی دیتا ہوں ، دنیا کی تمام طاقت میرے اندر موجود ہے ، میں منظم ہوں اور توانا ئي سے بھرا ہوا ہوں :

I am more than I appear to be. All the world's strength and power rest inside me. I am disciplined and energized. یوگی رمن نے امریکی وکیل کو بتایا کہ اس قسم کی مختلف ذہنی اور نفسیاتی ورزشوں کے ذریعہ تم اپنے آپ کو اس حد تک تیار (conditioned) کر سکتے ہو کہ تم سلف ماسٹری (self mastery) کے درجے تک پہنچ جاؤ اور پھر تم وہ سب کچھ حاصل کر لو گے جو تم چاہتے ہو۔ صحت، جوانی، مسرت، کامیابی اور لمبی زندگی ۔

تبصرہ

اس کتاب پر میں نے گہرائی کے ساتھ غور کیا مگر وہ مجھے ایک پر لطف کہانی کے سوا کچھ اور نظر نہ آئی۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ پچھلے ۵ ہزار سال سے بے شمار دانا لوگ (sages) روحانی ترقی کے اس فارمولا پر عمل کرتے رہے ہیں اور آج بھی وہ عمل کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں پہلا سوال یہ ہے کہ مصنف کو اپنی بات پیش کرنے کے لئے کوئی حقیقی کردار کیوں نہ ملا۔ کیا وجہ ہے کہ انہوں نے یوگی رمن کے نام سے ایک فرضی کردار تخلیق کیا اور اس کے حوالہ سے اپنا خیالی نظریہ مرتب کر ڈالا۔ دوسری بات یہ کہ مفروضہ یوگی رمن نے جو گْلنک امریکی وکیل کو بتائی وہ سب جسمانی نوعیت کی تھی اور جسمانی ورزش (physical exercise) سے روحانی نتیجہ (spiritual result) کبھی ممکن نہیں۔

تیسری بات یہ کہ مسرت (happiness) بذاتِ خود کوئی منزل نہیں۔ یہ ایک حیوانی منزل ہو سکتی ہے مگر وہ کوئی انسانی منزل نہیں۔ اس لئے کہ پر مسرت زندگی بالفرض حاصل ہو سکے تب بھی وہ اس قیمت پر ہوگی کہ انسان کی بہت سی اعلیٰ صلاحیتیں غیر استعمال شدہ رہ جائیں گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مقوی غذا ئیں کھا کر اپنے جسم کو فر بہ بنا لے مگر وہ دماغی بڑھوتری سے محروم ہو گیا ہو۔ انسان کی منزل با مقصد زندگی ہے نہ کہ صرف پر مسرت یا پر راحت زندگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page