تبصرہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
چوتھی بات یہ کہ ذہنی تناؤ کوئی برائی (evil) نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی تناؤ انسانی ترقی کے لئے ایک مہمیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیچر نے انسان کی ترقی کے لئے شاک ٹریٹمنٹ کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تمام بڑے انسان ہمیشہ نا موافق حالات میں بنے ہیں نہ کہ موافق حالات میں۔ موافق حالات یا پرسکون حالات احمقوں کی جنت (fool's paradise) تو وجود میں لاسکتے ہیں مگر وہ دانشمندوں کی دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتے۔
تخلیق کے اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی وجود کے دو حصے ہیں جسم اور دماغ۔ دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ انسان کا جسم مادی غذا پر زندہ رہتا ہے۔ اچھی غذائیں اور صحت بخش ماحول اگر اسے حاصل ہو جائے تو جسم فربہ اور تندرست ہو جائے گا۔ لیکن جسم کی فربہی یا تندرستی کا کچھ بھی تعلق دماغ کے ارتقاء سے نہیں ہے۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دماغ (brain) بے شمار چھوٹے چھوٹے اجزاء (cells) کا مجموعہ ہے۔ یہ اجزاء پیدائشی طور پر خوابیدہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کو متحرک کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ چیلنج ہے۔ زندگی سے مقابلہ کرتے ہوئے انسان کو مختلف قسم کے جو چیلنج پیش آتے ہیں وہی دماغی ذرات کو متحرک کرتے ہیں۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مذکورہ کتاب نہ صرف ایک فرضی کہانی ہے بلکہ وہ سائنسی حقائق کے سراسر خلاف ہے۔ اس کتاب کی اسکیم اگر بالفرض وہ واقعہ بن سکے تو اس کے نتیجہ میں کچھ فر بہ جسم تو ضرور دکھائی دیں گے لیکن ارتقاء یافتہ انسانی ذہن کا زمین سے خاتمہ ہو چکا ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues