Al-Risala · September 2001 · page

تالیف قلب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

ضعف کی مالی تلافی کے لیے زکوۃ میں یہ مد مدقرار کی گئی۔ مگر اسلام جب طاقتور ہو گیا تو اس قسم کی مالی دلجوئی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس بنا پر بعد کو یہ مد ساقط یا موقوف ہوگئی۔ فقہاء میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا یہ مسلک کلیتاً ہے اور دوسرے علماء کا کسی قدر گنجائش کے ساتھ۔ مثلاً یہ کہ اب نومسلم کو دیا جاسکتا ہے مگر کسی غیر مسلم کو نہیں دیا جائے گا۔ ان کے نزدیک نومسلم لوگ فقراء مسلمین کے حکم میں داخل ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تالیف قلب کا حکم نہ تو ساقط ہوا ہے اور نہ یہ حکم ضعفِ اسلام کی بنا پر تھا۔ یہ حکم مصلحتِ دعوت کی بنا پر ہے نہ کہ ضعفِ اسلام کی بنا پر۔

اسلامی دعوت میں اصل انحصار دلیل پر ہوتا ہے۔ داعی کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ دلیل کی قوت سے مدعو کو مطمئن کرے اور اُس کے اندر ذہنی تبدیلی لائے۔ مگر اس دعوتی عمل میں کچھ چیزوں کی ضرورت بطور معاون ہوتی ہے۔ مثلاً نرم گفتاری، اعلیٰ اخلاق، مدعو کے ساتھ تقریب کا معاملہ کرنا۔ چنانچہ تقریبِ دعوت کی اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد تقریباً سولہ ماہ تک یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ (تفسیر القرطبی، ۲/ ۱۵۰)

تالیفِ قلب کی انہی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ مال یا تحفہ کے ذریعہ ان کی دلجوئی کی جائے۔ اس مقصد کے لئے دوسرے اموال کے علاوہ زکوۃ کی رقم بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ مال زکوۃ کے خرچ کی یہ مد ابدی ہے، وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک دعوت کا عمل لوگوں کے درمیان جاری ہو، خواہ مسلمان، سیاسی اعتبار سے، طاقت کی حالت میں ہوں یا ضعف کی حالت میں۔

تالیف قلب (دلجوئی) کا تعلق صرف زکوۃ کے مال سے نہیں ہے۔ اس کو زکوۃ کی ۸ مدوں میں سے ایک مقرر دینے کا مطلب یہ ہے کہ مدعو گروہ کی آخری حد تک رعایت کرو۔ حتی کہ ان کی دلجوئی کے لئے اگر زکوۃ کے اموال سے دینا ہو تو اُس میں سے بھی انہیں دو۔

تالیفِ قلب آدابِ دعوت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر اس پہلو سے ہے جو مدعو کے دل میں اسلام کے لئے نرم گوشہ (soft corner) پیدا کرنے والا ہو۔ قرآن و سنت میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ کا فرعون سے نرم زبان میں کلام کرنا (طہ 44)، پیغمبروں کا اپنی مخاطب قوم سے یہ کہنا کہ ہم تو تمہاری ایذاؤں پر صبر ہی کریں گے (ابراہیم ۱۲) مخالف لوگوں سے موعظت حسنہ (النحل ۱۲۵)، وغیرہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے بنو ہاشم کے لوگوں کو اپنے گھر پر بلایا تا کہ انہیں توحید

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page