Al-Risala · September 2001 · page

تالیف قلب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

کا پیغام دیں۔ اس موقع پر آپ نے پہلے ان کی تواضع کی اور انہیں دودھ پلایا۔ جب وہ اس سے فارغ ہو گئے تو اس کے بعد آپ نے انہیں نبوت کا پیغام دیا۔ یہ بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک صورت تھی۔ (مسند احمد، الجزء الاول، صفحہ ۱۵۹)

تالیف قلب دراصل ایک جامع حکم ہے جس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک بدو مدینہ کی مسجد نبوی میں آیا۔ اُس نے مسجد کے اندر پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑے تو آپ نے لوگوں کو منع کر دیا اور بدوکوز جروتو بیخ کے بغیر واپس کر دیا۔ یہ بھی تالیف قلب کی ایک صورت تھی۔

اسی طرح قبیلہ دُوس کے طفیل بن عمر والدوسی ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر قوم نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ ان کو ستایا اور سرکشی کا معاملہ کیا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قبیلہ کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دُوس کے حق میں دعا کی اور طفیل بن عمر والدوسی سے کہا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ، اس کو اسلام کی طرف دعوت دو اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (ارجع الى قومك فادعهم وارفق بهم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک مثال ہے۔ (سیرت ابن ہشام، الجزء الاول، صفحہ ۴۰۹)

جو لوگ مؤلفۃ القلوب کے حصہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منقطع یا منسوخ مانتے ہیں ان کی اس رائے کی ایک خاص بنیاد حضرت عمر فاروق کا ایک واقعہ ہے۔ ابن ہمام کی روایت ہے کہ عیینہ اور اقرع خلیفہ ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور ایک زمین کی مانگ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے پہلے تالیف قلب کے طور پر کچھ مال دیا تھا۔ ان کی مانگ پر ان کے لیے حضرت ابو بکر نے ایک تحریر لکھ کر دی۔ حالانکہ یہ دونوں مدینہ کے صاحب ثروت افراد تھے۔

یہ دونوں جب باہر آئے تو ان کی ملاقات حضرت عمر فاروق سے ہوئی۔ حضرت عمر نے تحریر کو لے کر پھاڑ دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے بعد یہ معاملہ خلیفہ ابو بکر صدیق کے سامنے آیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیز تم کو تالیف قلب کے لیے دی تھی ۔ اب اللہ نے اسلام کو طا قتور بنا دیا ہے اور اس کو تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کی اس رائے سے اتفاق کیا۔ (التفسیر المظهری ۴/ ۲۳۶)۔

اس واقعہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تالیف قلب کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔ اصل یہ ہے کہ تالیف قلب

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page