Al-Risala · January 2001 · page 45

You will need information to back up your ideas.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵

میری اور میری بیوی کی موت کا وقت ایک ہی کیوں نہیں رکھا گیا، ہم دونوں کی موت الگ الگ وقتوں میں کیوں مقدر کی گئی، تو یہ زیغ (انحراف) کی مثال ہوگی۔ اس کے برعکس اس آیت کو صحیح مزاج کے ساتھ لینا یہ ہے کہ آدمی خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمل صالح کرنے لگے تاکہ اس کے وفات یافتہ عزیز یا عزیزہ سے آخرت میں اس کی رفاقت یقینی ہو جائے۔ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کی آیتوں سے صحیح مفہوم لینے کا مطلب، کیا ہے اور غلط مفہوم لینے کا مطلب کیا ہے اور یہ کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کچھ لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن جائے اور کچھ لوگوں کے لیے گمراہی کا۔

یہاں قرآن کی ایک اور آیت قابل حوالہ ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : اور جو لوگ شیطان سے بچے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور وہ اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ ان کے لئے خوش خبری ہے، تو میرے بندوں کو خوش خبری دے دو جو بات کو غور سے سنتے ہیں۔ پھر وہ اس کے احسن کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں (الزمر ۱۷-۱۸)۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن اگرچہ سر تا پا ہدایت ہے لیکن اگر کوئی آدمی شیطان کے بہکاوے میں آ جائے تو وہ قرآن کی آیت سے غیر احسن مفہوم لے کر گمراہی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ بظاہر وہ قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دے گا مگر وہ اپنے متاثر ذہن کی بنا پر اس آیت کا خود ساختہ مفہوم لے لے گا، اور گمراہی سے نکل نہ سکے گا۔

اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کلام کو نہایت توجہ کے ساتھ سنا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ غور کر کے صحیح رائے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ یہ شرط پوری نہ کریں وہ بظاہر قرآن کی آیتیں پڑھیں گے مگر اس سے انہیں بھٹکنے کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہو گا۔ 26ستمبر2000 دعا گو وحیدالدین

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page