You will need information to back up your ideas.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴
اس مثال میں عقل صحیح یہ ہے کہ ید اللہ کو اللہ کی طاقت کے معنی میں لیا جائے نہ کہ انسانی ہاتھ جیسے ہاتھ کے معنی میں۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان مر کر قبر میں دفن ہو گا اور پھر قیامت کے دن قبر سے نکالا جائے گا (العبس ۲۱۔ ۲۲) اب اگر ایک شخص اس آیت میں یہ بحث نکالے کہ دفن ہونے اور دوبارہ زندہ اٹھانے کے درمیان کتنے سال کا فاصلہ ہے تو یہ اصل کلام سے انحراف کی ایک مثال ہوگی جو آدمی کو ذہنی انتشار ( کنفیوزن) کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں۔ اس کے برعکس اگر آدمی اس آیت سے یہ نصیحت لے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ موت کے بعد ہر انسان کو اللہ کے سامنے حساب کے لئے پیش ہونا ہے تو یہ گویا اس آیت کو عقل صحیح کی روشنی میں دیکھنا ہو گا جو آدمی کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن جائے گا۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن آدمی سے اس کے رشتہ دار بھاگیں گے، حتیٰ کہ اس کی بیوی بھی اور اس کے بچے بھی اس سے بھاگیں گے (العبس ۳۶)۔ اب اگر ایک شخص اس آیت کو پڑھ کر یہ بحث کرے کہ میری بیوی اس وقت کہاں ہے۔ میرے مرنے کے بعد وہ مجھ سے ملے گی یا نہیں۔ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتی تھی پھر کیوں کر ایسا ہو گا کہ وہ مجھ کو چھوڑ کر مجھ سے بھاگنے لگے، تو یہ سب زیغ (انحراف) کی مثال ہوگی۔ اس کے برعکس، اس آیت کو عقل صحیح کے مطابق لینا یہ ہے کہ آدمی اس کو پڑھ کر سہم جائے اور یہ سوچنے لگے کہ قیامت کا دن کتنا ہولناک ہوگا کہ لوگ اپنی محبتیں بھول جائیں گے اور وہ رشتے ٹوٹ جائیں گے جن کو ہم دنیا میں بہت مضبوط سمجھتے تھے۔ جو آدمی اس طرح سوچے اس کے لئے یہ آیت ہدایت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی، ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے۔ ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہوا ہے۔ (الطور ۲۱)۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص یہ بحث نکالے کہ جب اللہ کو آخرت میں مجھ کو اور میری بیوی کو ایک ساتھ ملانا تھا تو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues