Al-Risala · September 2001 · page

جہاد کا تصور اسلام میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کر کے مکہ پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل راز داری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کر سکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہو گیا یہ بھی پر تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے مقابلہ میں امن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنت امن کی عملی مثالیں ہیں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبورانہ استثناء کی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانہ میں صورت حال کیا ہے۔ اس معاملہ میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانہ میں پر تشدد طریق کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا۔ مگر اب صورت حال یکسر طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پر تشدد طریق کار آخری حد تک غیر مطلوب اور غیر محمود بن چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو واحد پسندیدہ طریق کار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں پر امن طریق کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہو گئی ہیں جنہوں نے پر امن طریق کار کو بذات خود ایک انتہائی طاقتور طریق کار کی حیثیت دے دی ہے۔

ان جدید تائیدات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ مثلاً اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، جدید کمیونیکیشن کے ذریعہ اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا، وغیرہ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پر امن طریق کار کو بیک وقت مقبول طریق کار بھی بنا دیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریق کار بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page